نئی دہلی: 18/ستمبر (ایجنسیز)
مرکزی کابینہ نے خواتین ریزرویشن بل کو منظوری دے دی ہے جو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دیتا ہے.
متعدد خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس بل کو سرکاری طور پر آئین (ایک سو آٹھویں ترمیم) بل، 2008 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سب سے پہلے منموہن سنگھ حکومت کی طرف سے راجیہ سبھا میں اس بل کو پیش کیا گیا تھا، اسے ابھی تک لوک سبھا میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے اور کابینہ کے اجلاس کے بعد روایتی بریفنگ بھی نہیں کی گئی ہے۔ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ کابینہ دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کے بل کو منظوری دے سکتی ہے اور پارلیمنٹ کے اس خصوصی پانچ روزہ اجلاس میں ’ون نیشن ون الیکشن‘ قانون سازی کو بھی آگے بڑھا سکتی ہے۔
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا کہ پارٹی نے خواتین ریزرویشن بل کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن وہ بل کی تفصیلات کا انتظار کر رہی ہے۔
ادھر بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کلوا کنٹلہ کویتا نے بھی خواتین ریزرویشن بل کی کابینہ میں منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بی آر ایس نے اس بل کی منظوری کے لئے سابق میں مختلف مواقعوں پر احتجاج بھی کیا تھا۔

