عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اسرائیل اور عسکریت پسند گروہ حماس کے مابین جنگ کے دوران غزہ پٹی میں صحت عامہ کا نظام ‘اپنے گھٹنوں‘ پر آ چکا ہے۔
ڈبلیو ایچ اوکی ترجمان نے میڈیا ذرائع کو بتایا کہ غزہ پٹی میں صحت عامہ کے نظام پر ‘بے مثال‘ پیمانے پر حملے ہوئے ہیں۔ مارگریٹ ہیرس نے کہا کہ الشفاء ہسپتال کا ‘خوف زدہ‘ عملہ بے سر و سامانی کے عالم میں بڑی تعداد میں زخمیوں کا علاج کر رہا ہے۔
ہیرس نے کہا کہ ہسپتال میں بستر کافی نہیں ہیں اور لوگ عمارت کے فرش یا راہداریوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کا عملہ ‘دوسری زندگیوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان کے خوف میں بھی ہے۔‘
یہ سوال پوچھے جانے پر کہ کیا اسرائیلی فوج کی طرف سے ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہیرس نے کہا، ”ہم کسی الزام کی نشاندہی یا تفویض نہیں کرتے ہیں لیکن ہم نے ان چار ہفتوں کے عرصے کے دوران ہیلتھ سسٹم پر اتنے زیادہ حملے دیکھے، جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔‘‘
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بالکل واضح ہے کہ ہیلتھ سسٹم کبھی بھی ہدف نہیں ہو سکتا۔
انسانی ہمدردی کے تحت جنگ میں وقفوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہیرس نے کہا، ’’ہم نے کوئی فرق نہیں دیکھا جو امداد کی فراہمی ممکن بنائے، جو ہمیں فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘‘
”ہمیں امدادی ٹیموں کو اندر لانے، سامان لانے اور لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے انسانی بنیادوں پر مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے، ایسا نہیں ہو رہا۔‘‘
ڈبلیو ایچ او منگل کو الشفاء ہسپتال کو کچھ طبی سامان پہنچانے میں کامیاب ہوا، لیکن اس سامان میں کوئی خوراک، پانی یا ایندھن نہیں تھا۔

