عرب اور مسلم ممالک نے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمےکا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف ‘جرائم‘ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا مشترکہ سربراہی اجلاس آج ہفتہ 11 نومبر کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تھا۔
اس اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، ترک صدر رجب طیب ایردوآن، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور شامی صدر بشار الاسد سمیت درجنوں رہنماؤں نے شرکت کی۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ”فلسطین میں ہمارے بھائیوں کے خلاف اس وحشیانہ جنگ کی مذمت اور اسے واضح طور پر مسترد‘‘ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو ثابت کرتی ہے۔‘‘
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کو ”نسل کشی کی جنگ‘‘ کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی ”جارحیت‘‘ فوری طور پر ختم کرائے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر تیل اور اشیاء کی تجارت سے متعلق پابندیاں عائد کریں۔ رئیسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا، ”اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملے میں 1200 افراد کی ہلاکت کے بعد سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال خطرے میں ہے۔
اس دہشت گردانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ پر فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں، جن میں فلسطینی حکام کے مطابق کل جمعے کے روز تک 11,078 افراد ہلاک ہو چکے تھے، جن میں سے 40 فیصد بچے تھے۔

