اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ یہ ایک تکلیف دہ صبح ہے کیوں کہ گزشتہ روز غزہ میں جاری لڑائی کا ایک مشکل دن تھا۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ جمعے کے روز سے اتوار تک فلسطینی علاقوں میں 16 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس جنگ کی ‘بھاری قیمت‘ ادا کر رہا ہے تاہم اس کے پاس لڑائی کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں۔
فلسطینی ہلاکتیں بیس ہزار سے متجاوز
غزہ کی منتظم حماس کی زیرنگرانی کام کرنے والی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر بیس ہزار چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک بیان کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مختلف مقامات پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 166 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی دو اعشاریہ تین ملین کی مجموعی آبادی کا 80 فیصد سے زائد اس جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو چکا ہے۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی ایک قرارداد میں غزہ کے لیے ہیومینیٹیرین امداد کی ترسیل میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔
غزہ میں 3 صحافیوں سمیت 166 فلسطینی شہید
اسرائیلی فوج نے چوبیس گھنٹوں میں غزہ کے 200 مقامات پر فضائی، زمینی اور سمندر سے حملے کر کے 3 صحافیوں سمیت 166 فلسطینی شہید کر دیے۔
اسرائیلی فوج کے مختلف علاقوں میں حملوں سے فلسطینی شہداء کی مجموعی تعداد 20 ہزار 500 ہو گئی ہے۔
فلسطین میں 30 سال سے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکار عصام المغربی بھی خاندان کے 76 افراد سمیت شہید ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی غزہ میں امداد کی قرارداد مشکلات کے سمندر میں قطرے کے برابر ہے، جیسے جیسے تنازعہ شدت اختیار کرے گا، دہشت بڑھتی جائے گی، وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، ہار نہیں مانیں گے۔

