ضلع عادل آباد کے اندرویلی میں چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کا اعلان
عادل آباد : 02/فروری (محمد عابد علی/اپنا وطن نیوز)
ریاستی وزیر اعلیٰ مسٹر ریونت ریڈی نے عنقریب مزید دو ضمانتوں پر عمل آوری کا تیقن دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کانگریس حکومت عوام دوست حکومت ہے جو کہ بالخصوص خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے کام کررہی ہے۔
انھوں نے آج ضلع عادل آباد کے اندرویلی منڈل میں منعقدہ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عنقریب 500 روپیوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی اور 200 یونٹ مفت برقی سربراہی کے اپنے وعدہ پر عمل آوری کرے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ سفید راشن کارڈ کی حامل خواتین کے لئے 200 یونٹ مفت برقی کی اسکیم کا عنقریب آغاز عمل میں لایا جائے گا۔
త్వరలో…
• 200 యూనిట్ల విద్యుత్ ఫ్రీ.
• రూ.500 లకే సిలిండర్.
— ముఖ్యమంత్రి రేవంత్ రెడ్డిVery Soon…
• 200 units of Electricity Free.
• Gas Cylinder for Rs.500.
– CM Revanth Reddy#ChaloIndravelli#TelanganaPunarnirmanaSabha @revanth_anumula pic.twitter.com/PkROFgIc83— Congress for Telangana (@Congress4TS) February 2, 2024
اس کے لئے ایک لاکھ خواتین کو جمع کرتے ہوئے کانگریس کی خاتون قائد پرینکا گاندھی کے ہاتھوں اس پر عمل آوری کا آغاز کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ خواتین کو 500 روپیوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
اس موقع پر چیف منسٹر نے سیلف ہیلپ گروپ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو کہا کہ وہ اپنی اولاد کو بہتر تعلیم دلوائیں۔ تعلیم ہی خاندان کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔
انھوں نے ریاست بھر کے سرکاری ہاسٹلس میں زیر تعلیم طلبا کو یونیفارمس کی فراہمی کے لئے سیلف ہیلپ گروپ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ٹنڈرس فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کو یونیفارم کی سلوائی کے ٹنڈرس دینے کے بجائے حکومت خواتین کو یہ کام سونپنے پر غور کررہی ہے اور اس پر بہت جلد فیصلہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرا مارکا، ضلع انچارج وزیر سیتا اکا، ریاستی وزرا کونڈا سریکھا، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، تملا ناگیشور راؤ، سریدھر بابو کے علاوہ مہیش کمار گوڑ ایم ایل سی، حکومت کے مشیر محمد علی شبیر، رکن اسمبلی خانہ پور ویڈما بوجوپٹیل، رکن اسمبلی منچریال پریم ساگر راؤ، رکن اسمبلی چنور وویک وینکٹ سوامی، رکن اسمبلی بودھن سدرشن ریڈی، وی ہنمنت راؤ کے علاوہ دیگر اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل موجود تھے۔

