اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کی قرارداد منظور

نیو یارک : 11؍مئی (ایجنسیز)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو فلسطین کی اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کی کوشش کی حمایت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کا رکن بننے کا اہل تسلیم کیا اور سلامتی کونسل سے ’معاملے پر ہمدردانہ انداز میں نظر ثانی‘ کی سفارش کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کی جانب سے یہ ووٹ اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کے لیے فلسطینیوں کی حمایت میں عالمی سروے ہے۔

اس عمل کے تحت فلسطین کو ریاست کے طور پر مؤثر انداز میں تسلیم کیا جانا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حوالے سے قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

جمعے کو جنرل اسمبلی نے حق میں آنے والے 143 ووٹوں سے قرارداد منظور کر لی۔ نو ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے جن میں امریکہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔

25 ملکوں نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ اس قرارداد سے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت نہیں ملے گی لیکن اسے محض رکن بننے کا اہل تسلیم کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد ’اس بات کا تعین کرتی ہے کہ فلسطین ایک ریاست ہے اس لیے اسے رکن بنایا جائے اور یہ سفارش کرتی ہے کہ سلامتی کونسل اس معاملے پر ہمدردانہ انداز میں نظر ثانی کرے۔‘

اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطینیوں کی کوششیں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کے آغاز کے سات ماہ بعد سامنے آئی ہیں اور ایک ایسے وقت میں کہ جب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم بستیوں میں توسیع کر رہا ہے، جسے اقوام متحدہ نے غیر قانونی عمل قرار دیا ہے۔

قرارداد پر رائے شماری سے قبل جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں فلسطین سفیر ریاض منصور نے کہا: ’ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ (قرارداد کی ) حمایت میں ووٹ فلسطین کے وجود کے حق میں ووٹ ہے۔ یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں ہے۔ یہ امن میں سرمایہ کاری ہے۔‘