غزہ: 27/مئی (انٹرنیٹ ڈیسک)
اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کی حکم عدولی کرتے ہوئے غزہ کے ر فح کیمپ میں اپنی جارحیت جاری رکھی ہے۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFAنے اطلاع دی ہے کہ اتوار کی شام غزہ پٹی کے سب سے جنوبی شہر
ر فح میں واقع خیموں پر اسرائیل کی بمباری میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور کچھ دیگر زخمی ہو گئے۔
WAFAنے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈور کسی ایجنسی ( UNRWA) کے گوداموں کے نزدیک ہزاروں بے گھر افراد سے بھرے نئے پناہ گزیں کیمپ میں خیموں پر تقریباً آٹھ راکٹ فائر کیے۔
خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی گنجان آبادی والے علاقے پر "شدید "اسرائیلی فضائی حملہ تھا، جس سے پلاسٹک اور ٹن سے بنے خیموں کے ساتھ ہی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔
فیس بک پر گردش کرنے والی ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ علاقے میں آگ کے بھیانک شعلے اٹھ رہے ہیں اور خیموں کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں جن میں بچوں اور خواتین سمیت بہت سے لوگ مقیم ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ دشوار گزار علاقے کی وجہ سے سول ڈیفنس اور ایمبولینس کے عملہ کو لاشیں نکالنے میں کافی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ فلسطینی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ژنہوا نے بتایا کہ غزہ کی آبادی سے بھرے علاقے کو اسرائیلی فوج نے حملے سے قبل ایک ” محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔
اتوار کی شب جاری ہونے والے بیان میں ، حماس نے اس بمباری کو ” عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے ) کے فیصلے کی مکمل خلاف ورزی اور حکم عدولی "قرار دیا جس میں اسرائیل سے رفح میں اپنی جارحیت روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل امریکی حمایت اور گرین لائٹ کے بغیر ایسے حملے کا ارتکاب نہیں کر سکتا ہے، اور امریکی انتظامیہ اس مہلک حملے کا مکمل ذمہ دار ہے۔
حماس کی مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے کئی مہینوں بعد پہلی بار رفح سے وسطی اسرائیلی ساحلی شہر تل ابیب کی طرف بڑار اکٹ بیراج داغا تھا، جس کے چند گھنٹے بعد اسرائیل نے فضائی حملہ کیا ہے۔ مئی کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مصر سے متصل سرحد پر غزہ کی پٹی کے جنوب میں اور رفح کے مشرقی علاقے میں واقع رفح کراسنگ کے 7 فلسطینی حصے کا کنڑول سنبھال لیا ہے ، جس کے بعد غزہ میں داخل ہونے والی امداد روک دی گئی۔

