دراصل کیا چیز استعمال کی تھی؟ جانیے اور احتیاط کیجیے
ہزاری باغ (جھارکھنڈ) : 18؍ جولائی (انٹرنیٹ ڈیسک)
ریاست جھارکھنڈ میں یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے دانت کے درد کا علاج کرنے سے نوجوان کی موت واقع ہو گئی۔
انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیاکے مطابق اس 26سالہ نوجوان کی شناخت اجے مہتو کے نام سے بتائی گئی ہے جو ریاست جھاڑ کھنڈ کے شہر ہزاری باغ کا رہائشی تھا۔
اجے مہتو نے یوٹیوب ویڈیوز سے دانت کے درد کا علاج تلاش کرنا شروع کیا اور ایک ویڈیو میں کنیر (oleander)کے بیچ کے بارے میں بتایا گیا کہ اس سے دانت کا درد ختم ہو جاتا ہے۔

چنانچہ اجے نے کنیر کے بیج استعمال کرنے شروع کر دیئے۔بیج زیادہ مقدار میں استعمال کرنے پر گزشتہ روز اس کی حالت بگڑ گئی۔
اجے کو بشنو گڑھ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر ہزاری باغ لیجایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
اجے کے والد ننوچند مہتو نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے کنیر کے بیج بہت زیادہ مقدار میں کھالیے تھے، جس سے اس کی حالت خراب ہوئی۔
ہزاری باغ کے سول سرجن ایس پی سنگھ نے بتایا کہ ”کنیر کے بیج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور ان کا زیادہ استعمال جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔“

