اندرون ایک سال 2 لاکھ سرکاری ملازمتوں پر تقررات

تلنگانہ پبلک سروس کمیشن بورڈ کی از سر نو تشکیل عمل میں لانے ریونت ریڈی کا اعلان

عادل آباد : 27/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)

چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی نے اندرون ایک سال 2 لاکھ ملازمتوں پر تقررات عمل میں لانے کا ادعا کرتے ہوئے آج کہا کہ ان کی حکومت سنجیدگی کے ساتھ اپنے وعدہ پر عمل پیرا ہے۔

انھوں نے آج حیدر آباد میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے چیرمین و اراکین نے گورنر کو اپنے استعفے پیش کئے ہیں، گورنر ان استعفوں کی منظوری سے متعلق صدر جمہوریہ کے دفتر سے رابطہ میں ہے اور اس پر قانونی رائے حاصل کی گئی ہے۔ ان استعفوں پر گورنر فیصلہ لیں گی۔

انھیں معلوم ہوا  ہے کہ اندرون چار یوم گورنر استعفوں پر فیصلہ لیں گی اور اس کے بعد تلنگانہ حکومت کی جانب سے نئے چیرمین و اراکین کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

چیف منسٹر نے بتایا کہ پبلک سرویس کمیشن کا بورڈ ہی ملازمتوں سے متعلق نوٹفکیشن کی اجرائی، امتحانات کے انعقاد اور ملازمتوں سے متعلق احکامات کی اجرائی کا ذمہ دار ہوتا ہے لہذا بورڈ کی عدم موجودگی کے باعث یہ عمل رکا ہوا ہے۔

پبلک سروس کمیشن کے بورڈ کی عدم موجودگی میں لئے گئے فیصلے قانونی حیثیت نہیں رکھتے اور عدالتوں میں بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی لہذا گورنر کے فیصلہ کے ساتھ ہی حکومت پبلک سرویس کمیشن کی از سر نو تشکیل عمل میں لائیگی اور حکومت کے مختلف محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا اور 9 ڈسمبر 2024 سے قبل 2 لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔

انھوں نے بیروزگار نوجوانوں کو پریشان نہ ہوتے ہوئے اپنی تیاری جاری رکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ سابق میں موجود پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی سوالنامے زیراکس سنٹرس پر ’پھلی بٹانے‘ کی طرز پر دستیاب ہونے لگے تھے، امتحانات کے انعقاد میں شفافیت نہیں تھی، جس کا نتیجہ تھا کہ بورڈ کو کئی امتحانات کو ملتوی و منسوخ کرنے کی نوبت آ پڑی تھی۔

انھوں نے اپنی حکومت کی جانب سے تیقن دلایا کہ تقررات نہایت ہی شفاف طرز پر منعقد کئے جائیں گے اور کانگریس کی جانب سے جاری کئے گئے جاب کیلنڈر کے مطابق ہی ان پر بھرتیاں عمل میں آئیں گی۔