حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کا حصہ بننے متنازعہ روحانی پیشوا یتی نرسنگھا نند کی پیشکش

غازی آباد (اتر پردیش)

متنازعہ روحانی پیشوا یتی نرسنگھانند سرسوتی، جو اکثر اپنی نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں اور نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایک بار پھر خبروں میں آ گئے ہیں۔

اب جبکہ اسرائیل، حماس کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے، اتر پردیش کے غازی آباد میں واقع داسنا دیوی مندر کے 58 سالہ صدر پجاری نے اب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں خود شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں، نرسنگھا نند سرسوتی نے اسرائیل کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ انہیں اور ان کے 1000 شاگردوں کو اسرائیل میں آباد ہونے کی منظوری دیں۔

انھوں نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا جبکہ ان کے ساتھ صرف مٹھی بھر شاگرد بیٹھے نظر آرہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور ہندوستان ایک ہی دشمن سے لڑ رہے ہیں۔

یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ سناتن دھرم کے پیروکار فی الحال دشمن سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، نرسنگھا نند نے کہا کہ جب تک ایسا وقت نہیں آتا، وہ اور ان کے پیروکار اسرائیل کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔

اس کے لیے نرسنگھا نند نے صرف ایک شرط رکھی  کہ وہ اور ان کے تقریباً 1,000 شاگردوں کو اسرائیل میں ان کے مذہب یعنی ہندو دھرم پر عمل کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن کے وقت ہم اپنے کام کریں گے اور جنگ یا کسی اور بحران کے دوران ہم اسرائیل کے لیے جنگ لڑیں گے۔

انھوں نے اس خصوص میں بروز پیر، اسرائیل کے سفارتخانہ پہنچ کر درخواست دینے کا بھی اعلان کیا۔