نئی دہلی : 8/اگست (ویب ڈیسک)
لوک سبھا میں آج وقف ترمیمی بل 2024 پیش کیے جانے کے بعد زوردار ہنگامہ ہوا۔ ایک طرف حکومت اسے مسلمانوں کے حق میں قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں اس پر سخت اعتراض ظاہر کر رہی ہیں۔ اس بل کے بارے میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے لوک سبھا میں تقریباً ایک گھنٹہ تفصیل سے بتایا، اور پھر آخر میں انھوں نے اس بل کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی سی) کو بھیجنے کی تجویز پیش کی۔ یعنی اس بل کو جے پی سی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں کمیٹی بنانے کا عمل جلد انجام دیں گے۔
’آپ مسلمانوں کے دشمن ہیں، ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں‘، اویسی کا مودی حکومت پر حملہ
Waqf Amendment Bill, 2024 mulk ko baantne ke liye laya gaya hai, jodne ke liye nahi. Aap musalmano ke dushman hain, yeh bill iss baat ka saboot hai.#AIMIM #AsaduddinOwaisi #Parliament #WaqfBoardBill #waqf #WaqfActAmendmentBill pic.twitter.com/pCrsyoFOWg
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) August 8, 2024
اسدالدین اویسی نے لوک سبھا میں پیش وقف ترمیمی بل 2024 کی رول (2)72 کے تحت مخالفت کی ہے۔ انھوں نے ایوان میں کہا کہ یہ بل آئین کے بنیادی جذبہ پر حملہ ہے۔ آپ ہندو پوری ملکیت اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام پر دے سکتے ہیں، لیکن ہم ایک تہائی ہی دے سکتے ہیں۔ ہندو تنظیم اور گرودوارہ پربندھک کمیٹی میں غیر مذاہب کے اراکین شامل نہیں ہوتے تو وقف میں کیوں؟ یہ بل ہندو-مسلم میں تفریق کرتا ہے۔ وقف کی جائیداد عوامی ملکیت نہیں ہے۔ یہ حکومت درگاہ اور دیگر ملکیتیں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ آپ ملک کو تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں، آپ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
وقف ترمیمی بل 2024 کے ذریعہ آئین کی دھجیاں اڑانے کی کوشش ہو رہی ہے: عمران مسعود
رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے لوک سبھا میں آج وقف ترمیمی بل 2024 کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعہ آئین کی دھجیاں اڑانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وقف بورڈ ہی سبھی مساجد کا انتظام دیکھتا ہے، وقف بورڈ کے پاس ملک میں آٹھ لاکھ ایکڑ کی جائیداد ہے۔ کوشش تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ آپ وقف کی زمینوں کو قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے قدم اٹھاتے۔

