کھانا کھاؤ لیکن پانی نہ پیو، پیٹ میں کھانے اور پانی کی جنگ میں تم ہی قتل ہو جاؤ گے۔
(مضمون نگار: حکیم محمد طارق محمود چغتائی، کراچی)
غفلت اور بے پروائی کی زندگی گزارنے سے گزر جاتی ہے لیکن اگر اسی زندگی کو اصول صحت کے مطابق گزاریں تو یہی نعمت لازوال بن کر زندگی کا صحیح لطف اور مزا دیتی ہے۔
کیا کبھی آپ نے محسوس کیا کہ کھانے کے بعد پانی یا کولڈ ڈرنکس کا استعمال صحت کے لئے مضر ہے یا شفا بخش ؟
اس ضمن میں قارئین کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہوئے کچھ مشاہدات و تجربات پیش خدمت ہیں۔

ایک بینک آفیسر کہنے لگے کہ میں عرصہ پچیس سال سے گیس اور تبخیر کا مریض رہا ہوں ۔ مختلف قسم کی ادویات کے استعمال کے بعد نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ مجھے بھی اسی طرح گیس و تبخیر کا مرض تھا۔
مجھے کسی نے بتایا کہ کھانے کے فوراً بعد پانی مت پئیں ۔ میں نے اسی اصول پر عمل کیا وہ دن اور آج کا دن مرض سے چھٹکارا مل گیا۔
بندہ ایک ماہر معالجات کے پاس بیٹھا تھا وہ ہر آنے جانے والے مریض کو کھانے کے بعد پانی نہ پینے کا مشورہ دیتے تھے۔ خود ہی بتانے لگے کہ میرے تجربات و مشاہدات میں یہ بات اکثر آئی ہے کہ کھانے کے بعد پانی جتنا صحت کو نقصان دیتا ہے اتنا اگر کھانے کے بعد ایک چمچ زہر استعمال کیا جائے تو وہ شاید کم نقصان دہ ہے۔
بہت معتبر ترین کتابوں میں کھانے کے بعد پانی پینے کو منع کیا گیا ہے۔ کھانے کے بعد عام سادہ پانی کے استعمال سے معدے کا ستیا ناس ہو جاتا ہے ۔ معدہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔

حتی کہ کھانے کے بعد پانی کا مسلسل استعمال دل کے امراض کا پیش خیمہ ہے۔
تو کیا خیال ہے کہ جب کھانے کے بعد کولڈ ڈرنکس استعمال کئے جاتے ہیں ان سے کتنا نقصان ہوتا ہوگا ۔ اور وہ معدے کیلئے کتنی تباہی کا ذریعہ بنتے ہیں ، میرے پاس الفاظ نہیں ۔ یورپ کے مشہور فزیالوجسٹ ’’پروفیسر ٹیم ‘‘ کا مشہور مقولہ شاید ہماری زندگی کے لئے نشان راہ بن جائے ۔
’’کھانا کھاؤ لیکن پانی نہ پیو، پیٹ میں کھانے اور پانی کی جنگ میں تم ہی قتل ہو جاؤ گئے۔‘‘
الغرض کھانے کے بعد پانی کا استعمال کتنے امراض کا ذریعہ بنتا ہے اگر اس کو تحریر میں لائیں تو شائد صفحات کم ہوجائیں تو پھر کیوں نہ کھانے کے بعد پانی پینا چھوڑ کر ان خطرناک امراض سے بچ جائیں۔

