تلنگانہ میں عنقریب ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل ۔وزیر اعلیٰ کی ماہرین تعلیم سے مشاورت

حیدر آباد : 20/جولائی (اپنا وطن نیوز)

چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی نے واضح کیا  کہ موجودہ عوامی حکومت آنگن واڑی مراکز سے لے کر  یونیورسٹیز تک، معیاری تعلیم، ہنرمندی کی تربیت اور روزگار فراہم کرنے کے اپنےعہد پر پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جو کہ تعلیم اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، جلد ہی ریاست میں  ایجوکیشن کمیشن اور ایگریکلچر کمیشن کی تشکیل عمل میں لائے گی۔

چیف منسٹر مسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت سکریٹریٹ میں کل بروز جمعہ ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں  ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارکا،حکومتی مشیر کے،کیشوراؤ کے علاوہ ماہرین تعلیم پروفیسر ہرگوپال، پروفیسر۔ کودنڈارام، پروفیسر شانتھا سنہا، پروفیسر الداس جنایہ، پروفیسر پدمجا شاہ، پروفیسر لکشمی نارائنا، ریٹائرڈ آئی اے ایس اکونوری مرلی اور دیگر نے شرکت کی ۔

اس اجلاس میں تلنگانہ کے تعلیمی نظام کو درپیش مسائل اور حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال و تجاویز پیش کی گئیں۔

دوران اجلاس وزیر اعلیٰ نے متعدد تعلیمی مسائل پر ماہرین تعلیم سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں تعلیمی شعبہ کی ترقی کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے روبہ عمل لائے جارہے پروگراموں اور اقدامات سے واقف کروایا۔

چیف منسٹر نے  کہا کہ سرکاری اسکولوں کے انتظام کی ذمہ داری خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو دی گئی ہے، اور آنگن واڑی مراکز کو ’’پلے اسکولس‘‘ میں تبدیل کرنے کے معاملے پر غور کیا جارہا ہے۔

11 ہزار سے زائد اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لئے نوٹفکیشن کی اجرائی، سال میں دو بار ٹیٹ امتحان کا انعقاد، تعلیمی سال کے آغاز کے پہلے ہی دن تمام بچوں کو یونیفارمس کی فراہمی، درسی کتابیں، امّا آدرش پاٹھا شالا کمیٹیوں کے ذریعے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی تعمیر جیسے حکومتی اقدامات سے شرکا کو واقف کروایا گیا۔

مسٹر ریونت ریڈی نے شرکا کو بتایا کہ ریاست میں شعبہ تعلیم میں اصلاحات اور اسے  مزید مستحکم  کرنے کے لیے حکومت نے پہلے ہی ریاستی وزراء سریدھر بابو، سیتا اکا اور پونم پربھاکر پر مشتمل وزرا کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

انھوں نے اجلاس میں موجود ماہرین تعلیم سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لئے ایک جامع پالیسی تیار کریں اور وزرا کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔