دل کے دورے کی عجیب علامات

(اپنا وطن / ہیلت ڈیسک)

تحریر ڈاکٹر سہیل اختر۔۔۔۔

دل ایک حساس عضو ہے … اس کا استعمال دیکھا جائے تو بلکل معمولی لگتا ہے مگر یہ کام ایک مشین کی طرح کرتا ہےاور یہ اگر غلطی سے بھی بند ہوجائے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔

انسانی جسم میں دل کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، عموماً دل کی دھڑکن ہی کو زندگی تصور کیا جاتا ہے اور دل کے بند ہوتے ہی انسان کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔

آپ کا رویہ، سونے کی عادت اور آپ جس علاقے میں رہتے ہیں، یہ تمام دل کے مرض کا سبب بن سکتے ہیں، جو اس وقت دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر 10 میں سے 3 اموات کا سبب دل کا عارضہ ہے۔

دل کے امراض کا سبب کیا ہے؟

یونیورسٹی آف آسٹریلیا کے ایک سروے کے مطابق سخت غصے کے اظہار کے بعد اگلے دو گھنٹے تک کسی بھی فرد میں دل کا دورہ پڑنے کے امکانات ساٹھے 8 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ دیگر عوامل کونسے ہیں، آئیے جانتے ہیں!

کمپیوٹر پر بیٹھنا :

جو افراد روزانہ 4 گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک ٹی وی دیکھتے ہیں یا کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں ان میں دل کے امراض کا خطرہ 125 فیصد زیادہ ہے۔

نیند کی کمی :

موجودہ دور میں 7 سے 9 گھنٹے کی نیند لینا ایک مسلہ بن چکا ہے۔ اگر آپ اتنی نیند نہیں لے رہے ہیں تو یہ خطر ناک ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 6 سے کم گھنٹوں کی نیند لینے والے افراد میں دل کے دورے کے امکان ان افراد سے زیادہ ہوتا ہے جو 7 یا 8 گھنٹے کی روزانہ نیند لیتے ہیں۔

آلودگی، زہر قاتل :

فضائی آلودگی دل کے لئے بھی اتنی ہی خطرناک ہے، جتنی پھیپڑوں کے لئے ہے۔

تحقیق نے امریکہ کے شہر بوسٹن کے جنوبی علاقوں میں گھنٹہ وار آلودگی کی پیمائش کی کہ کس طرح اس کے ذرات علاقے میں موجود ایسے مریضوں کو متاثر کرتے ہیں جن کو دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے 45 سے 80 سال کے 16 ہزار مرد اور عورتوں پر تحقیق کی، جنہوں نے زندگی میں کم از کم ایک شادی ضرور کی تھی۔ اس تحقیق میں ہر دو سال بعد اعداد و شمار تازہ کئے گئے اور مجموعی صحت کا بھی معائنہ کیا گیا۔

طلاق شدہ عورتوں میں دل کے دورہ کا خطرہ ان عورتوں سے 25 فیصد زیادہ پایا گیا جن کی شادی برقرار تھی۔

گرم علاقے :

سخت سرد اور سخت گرم علاقے دل کے دورے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ وار سسٹر ہارٹ اٹیک اسٹڈی میں دل کے مریضوں کا ڈیٹا استعمال کرکے سائنسدانوں نے پایا کہ دل کے دورے سے دو روز قبل منفی 8 تک کا درجہ حرارت مریض کے لئے خطرے کو 36 فیصد بڑھا دیتا ہے۔

دوسری جانب برطانوی محققین نے یہ بھی پایا کہ 20 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت دو فیصد خدشہ بڑھا دیتا ہے۔