ایوان لوک سبھا میں سیکوریٹی کی سنگین خلاف ورزی

عوامی گیلری سے دو احتجاجی ایوان میں کود پڑے۔کلر اسموک سے دھواں چھوڑا گیا۔جملہ 4 احتجاجی گرفتار

دہلی : 13/ڈسمبر (ایجنسیز)

لوک سبھا میں آج چونکا دینے والے مناظر دیکھنے میں آئے جب دو افراد پبلک گیلری سے ایوان میں کود پڑے، اور انھوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے پاس موجود ’’کلر اسموک‘‘ سے دھواں چھوڑا۔

لوک سبھا میں داخل ہونے والے احتجاجی کی اراکین پارلیمان پٹائی کرتے ہوئے۔


آج دوپہر کے وقت جبکہ لوک سبھا میں وقفہ صفر جاری تھا، دو مشتبہ افراد پر مشتمل جوڑی ایوان میں داخل ہوئی، ان میں سے ایک کو ایوان میں موجود بینچوں پر چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا جب کہ دوسرا پبلک  گیلری سے لٹکتا ہوا کلر اسموک سے دھواں چھوڑ رہا تھا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نیلم اور امول شنڈے نامی احتجاجیوں کو پولیس گرفتار کرتے ہوئے۔


اس واقعہ کے اچانک رونما ہوتے ہی ایوان کے اندر افراتفری پھیل گئی۔

بعد ازاں چند اراکین پارلیمان نے لوک سبھا کی بنچوں پر چھلانگ لگانے والے اشخاص کو پکڑلیا اور انھیں سیکیوریٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا گیا۔

ایوان لوک سبھا میں جن افراد نے عوامی گیلری سے چھلانگ لگائی تھی، ان کی شناخت ساگر شرما اور منورنجن کے نام سے کی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر سے بر آمد کردہ کلر اسموک اسپرے


جس وقت لوک سبھا کے اندر ہنگامہ برپا تھا اسی وقت پارلیمنٹ کے باہر دو مظاہرین نعرے لگاتے ہوئے اسی قسم کا دھواں چھوڑ رہے تھے جنھیں بھی پولیس نے گرفتار کرلیا۔

گرفتار شدگان کے نام نیلم اور امول شنڈے کے طور پر کی گئی ہے۔

قبل ازیں لوک سبھا میں جب یہ واقعہ پیش آیا تب یہاں پر دیگر ارکان پارلیمان کے ساتھ راہول گاندھی بھی موجود تھے جو کہ اس تمام واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔

واضح ہو کہ آج ہی پارلیمنٹ پر حملہ کی 21 ویں برسی منائی جارہی تھی، اور آج ہی کے دن مظاہرین نے پارلیمنٹ کی سیکیوریٹی کو چکمہ دیتے ہوئے ایوان لوک سبھا میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی جس سے پارلیمنٹ کی سیکیوریٹی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد بی ایس پی ایم پی دانش علی نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ یہ مظاہرین کس طرح لوک سبھا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور کس نے ان کے لیے پاس بنوائے تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ کرناٹک کے میسور سے بی جے پی ایم پی نے عوامی گیلری میں ان احتجاجیوں میں سے ای کو داخل ہونے کا پاس جاری کیا تھا۔