اندرویلی شہدا کی یادگار کی ترقی کے لئے ایک ایکڑ زمین مختص

ضلع کلکٹر عادل آباد کا دورہ۔میموریل کی تعمیر کا اعلان

عادل آباد : 8/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)

وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی کی ہدایت پر ضلع کلکٹر عادل آباد مسٹر راہول راج پی ایس نے آج ضلع عادل آباد کے اندرویلی منڈل مستقر کا دورہ کرتے ہوئے گریجن طبقہ کے مقامی قائدین سے تبادلہ خیال کیا۔

قبل ازیں ضلع کلکٹر نے اندرویلی کے نزد واقع شہدا کی یادگار پر پھول مالائیں چڑھائیں اور شجر کاری کی۔

اس سے قبل چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی نے آج اپنے عہدہ کا حلف لینے کے فوری بعد ضلع کلکٹر عادل آباد کو اندرویلی شہدا کی یادگار پر جانے کی ہدایت دی تھی۔

اس کے فوری بعد ریاستی حکومت نے اندرویلی شہدا کی یادگار کی ترقی اور یہاں پر میموریل کی تعمیر کے لئے ایک ایکڑ اراضی مختص کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

 

ضلع عادل آباد کے منڈل اندرویلی میں واقع شہدا کی یادگار۔


ضلع کلکٹر نے یادگار کے مقام کا دورہ کیا اور گریجن طبقہ کے قائدین و مقامی عوام سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سے آگہی حاصل کی نیز یادگار شہدا کی ترقی و تزئین نو کے سلسلہ میں گفتگو کی۔

ضلع کلکٹر نے بتایا کہ عہدیداران کی جانب سے علاقہ کی ترقی اور میموریل کی تعمیر کے لئے منصوبہ تیار کیا جائے گا اور اسے حکومت کو بھیجا جائے گا۔ حکومت کی منظوری کے فوری بعد ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا۔

واضح ہو کہ 9/اگست 2021 کے دن ضلع عادل آباد کے موضع اندرویلی میں منعقدہ ایک عوامی جلسہ میں موجودہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر انھوں نے شہدا کی یادگار کے مقام کو ترقی دینے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل آوری کرتے ہوئے انھوں نے آج ایک ایکڑ اراضی منظور کی۔

دراصل اندراویلی واقعہ 20/اپریل 1981 میں پیش آیا تھا جس میں پولیس فائرنگ کے دوران 13 قبائیلیوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔ تاہم گریجن طبقہ کے اعداد و شمار کے مطابق شہدا کی تعداد 20 تھی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سال 1981 میں گریجنا رعیتو کولی سنگھم نامی تنظیم کی زیر صدارت علاقہ کے قبائیلیوں نے جل، جنگل، زمین کے نعرے کے طور پر اندرویلی موضع سے قریب احتجاجی پروگرام منعقد کیا تھا۔

اس احتجاجی پروگرام کو پولیس کی اجازت نہیں تھی لہذا پولیس نے احتجاج منعقد نہ کرنے کی وارننگ دی۔ بتایا جاتا ہے کہ احتجاج کے دوران ایک پولیس ملازم نے احتجاجی خاتون سے ناروا سلوک کیا جس کے نتیجہ میں اس خاتون نے پولیس ملازم پر حملہ کردیا اور اس ملازم کی موت واقع ہوگئی۔

اس کے فوری بعد پولیس نے احتجاجیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں پولیس ریکارڈ کے مطابق قبائیلی طبقہ کے 13 افراد مارے گئے۔

اس واقعہ کی یاد میں  اس مقام پر شہدا کی 80 فیٹ اونچی یادگار تعمیر کی گئی۔یہ یادگار لال رنگ کا ایک ستون ہے جس پر شہدا کی یاد میں الفاظ لکھے گئے ہیں۔  تاہم نا معلوم افراد نے سال 1986 میں اس یادگار کو ڈائنامائٹ سے اڑادیا تھا، بعد ازاں قبائیلیوں کے سخت احتجاج کے بعد 1987 میں اس یادگار کی دوبارہ تعمیر عمل میں آئی۔

صدر پردیش کانگریس کمیٹی تلنگانہ کی حیثیت سے ریونت ریڈی کو نامزد کرنے کے بعد انھوں نے 9/اگست 2021 کو اپنا پہلا عوامی جلسہ بعنوان ’’دلت گریجن دنڈورا‘‘ اسی یادگار کے مقام پر منعقد کیا تھا۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں قبائیلی عوام نے شرکت کی تھی۔ اس جلسہ میں انھوں نے اپنے اقتدار پر آنے کے فوری بعد اس کی ترقی کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل آوری کے طور پر انھوں نے آج ایک ایکڑ زمین مختص کردی۔