تین مساجد میں اشرار کی توڑ پھوڑ، مسلمانوں کی املاک کو پہنچایا گیا نقصان
خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا، قبائیلی نوجوان تحمل سے کام لیں۔ریاستی وزیر سیتا اکا کی اپیل
پولیس کی بھاری جمعیت تعینات۔افواہوں پر کان نہ دھرنے پولیس کی اپیل
جینور (ضلع کمرم بھیم آصف آباد) : 4/ستمبر (اپنا وطن نیوز)
تلنگانہ کے ضلع کمرم بھیم آصف آباد کے منڈل مستقر جینور میں ایک قبائلی خاتون کی مبینہ عصمت ریزی کی کوشش اور اس پر قاتلانہ حملہ کے واقعہ پر قبائیلیوں نے آج اقلیتی طبقہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے شہر کی تین مساجد کو نقصان پہنچایا ۔
عینی شاہدین کے مطابق لاٹھیوں سے لیس شرپسندوں نے شہر کی جامع مسجد، نور مسجد اور ابوبکر مسجد میں زبردست توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجہ میں مساجد میں موجود قرآن پاک و دینی کتابوں کے ساتھ بیحرمتی کی گئی، جامع مسجد میں موجود ڈیجیٹل گھڑی کے علاوہ کولرس، جائے نمازوں، میت والے الکٹرانک ڈولے اور کرسیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
یہی نہیں بلکہ اشرار نے شہر میں مسلم تاجروں کی دکانات میں آتشزنی کی، موٹر سیکلوں، کاروں اور دیگر املاک پر بھی حملہ کرتے ہوئے نقصان پہنچایا۔
اس واقعہ کے بعد جينور میں پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
Dear @RahulGandhi & @priyankagandhi horrible videos are coming from #Jainoor Village of #Asifabad district of #Telangana where properties of Minority community damaged in retaliation to irresponsible & shameful act of person. I request you to kindly instruct @TelanganaCMO… pic.twitter.com/vp3m1o58ZJ
— Mubashir.Khurram (@infomubashir) September 4, 2024
قبائیلی طبقہ کے افراد کا الزام ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جبکہ 31 ؍اگست کو ایک قبائلی خاتون شیخ مخدوم نامی ایک مسلم آٹو ڈرائیور کے آٹو میں سفر کررہی تھی کہ اس نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کی اور عصمت ریزی کی کوشش کی۔
خاتون نے چیخ و پکار کی جس کے بعد آٹو ڈرائیور نے اس خاتون کے چہرے پر وزنی پتھر سے حملہ کردیا اور اسے شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی۔
سڑک سے گزرنے والوں نے سڑک حادثہ سمجھ کر زخمی خاتون کو مقامی ہاسپٹل منتقل کر دیا جہاں سے اس خاتون کو بعد میں عادل آباد ریمس ہاسپٹل اور پھر حیدر آباد کے گاندھی ہاسپٹل کو منتقل کر دیا گیا۔
بعد ازاں 2 ستمبر کو زخمی خاتون کو ہوش آنے پر اس نے اس کے ساتھ پیش آئے حادثہ اور واقعہ کی تفصیلات بتائی جس کے بعد افراد خاندان نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔
شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم مخدوم کو گرفتار کر تے ہوئے اسے جیل منتقل کردیا ۔
اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد قبائیلی تنظیموں سے وابستہ نوجوانوں نے 3 ستمبر کو جینور ٹاون بند منایا اور حملہ آور مخدوم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور اسی دوران آج دوسرے دن شہر میں یہ فساد پھوٹ پڑا جس میں مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
واضح ہو کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے قبل جینور میں ایک مسلم نوجوان اور قبائیلی نوجوان کے مابین معمولی جھگڑے کے بعد اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا تھا اور تب ہی سے شہر میں تناؤ دیکھا گیا تھا اور اس کے بعد سے علاقہ میں دونوں طبقوں کے مابین تناؤ کی کیفیت بنی ہوئی تھی۔
اس معاملہ میں دونوں طبقوں کے کئی نوجوانوں پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں حراست میں بھی لیا تھا۔
آج کے واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری جمعیت کو شہر میں تعینات کردیا گیا ہے، پولیس حالات پر قابو پانے اور پُرامن بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
ضلع انچارج وزیر سیتا اکا نے قبائیلی خاتون پر حملہ اور جینور واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے نوجوانوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے آج حیدر آباد کے گاندھی ہاسپٹل میں زخمی خاتون کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ خاتون نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ آٹو ڈرائیور نے مار پیٹ کی اور زیورات چھینے ہیں، تاہم خاتون نے اس کے ساتھ ہوئی مبینہ زیادتی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔ یہ واقعہ آٹو ڈرائیور کا ایک قبائیلی خاتون کے ساتھ صرف مارپیٹ کا ہے یا اس کے ساتھ عصمت ریزی بھی کی گئی ہے اس پر پولیس کی جانب سے جانچ کی جائیگی ۔
پولیس نے اس خصوص میں شکایت درج کرتے ہوئے ملزم کو جیل بھیج دیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ضرورت پڑنے پر خاتون کی میڈیکل جانچ کی جائے گی اور مکمل واقعہ کو منظر عام پر لایا جائے گا لہذا عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھیں۔

