53 فیصد فائدہ اٹھانے والے ‘فرضی’۔تحقیقات جاری
دہلی : 19؍اگست (ایجنسیز)
دعوی کیا جارہا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتی اسکالرشپ کا سب سے بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے،جس میں اس اسکالرشپ سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تقریباً 53 فیصد ‘جعلی’ پائے گئے ہیں۔
مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے کی گئی ایک محکمہ جاتی ابتدائی تحقیقات میں تقریباً 830 اداروں میں بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں 144.83 کروڑ روپے کا اسکالرشپ گھوٹالہ ہوا ہے۔ابتدائی تحقیقات میں چونکادینے والے اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اسمرتی ایرانی نے اس معاملے کو مزید تفتیش کے لیے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے رجوع کیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اب سی بی آئی اس معاملہ کی مکمل جانچ کرے گی۔
میڈیا گروپ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اقلیتی امور کی وزارت نے 10 جولائی کو باضابطہ طور پر اس معاملے میں اپنی شکایت درج کرائی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں ملک کے 100 اضلاع میں یہ تحقیقات کی گئی۔ دوران تحقیقات نیشنل اسکالرشپ سے استفادہ حاصل کرنے والے جملہ 1572 تعلیمی اداروں میں سے 830 جعلی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ یہ اعداد و شمار 21 ریاستوں سے آئے ہیں، جب کہ باقی ریاستوں میں موجود تعلیمی اداروں کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔اس رپورٹ کے آنے کے فوری بعد حکام نے ان 830 اداروں سے منسلک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
اقلیتی امور کی وزارت کا اسکالرشپ پروگرام ملک بھر میں تقریباً 1,80,000 اداروں تک پھیلا ہوا ہے، جس میں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے طلباء شامل ہیں۔ اس اسکیم کا آغاز تعلیمی سال 2007-2008 میں کیا گیا تھا۔(جاریہ تعلیمی سال سے صرف اعلیٰ تعلیم کے لئے ہی یہ اسکالرشپ منظور کی جارہی ہے جبکہ پرائمری تعلیم کے لئے اسکالرشپ کا عمل روک دیا گیا ہے۔)
رپورٹس کے مطابق ہر سال ان اداروں کی طرف سے اقلیتی طلباء کے لیے اسکالرشپ کے لئے رجسٹریشن کیا جاتا تھا، جن میں کئی فرضی طلبا کے بینک اکاؤنٹس اور ان کی فرضی تفصیلات درج کی جاتی تھیں۔
بتایا جارہا ہے کہ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) ان اداروں کے نوڈل افسروں کی جانچ کرے گا جنہوں نے اسکالرشپ درخواستوں کی منظوری دی تھی۔
ذرائع نے انڈیا ٹوڈے کو مزید بتایا کہ وزارت نے اس بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ کس طرح بینکوں نے استفادہ کنندگان کے لیے جعلی اکاؤنٹس، جعلی آدھار کارڈ اور KYC دستاویزات کے ساتھ اکاؤنٹس کھولے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیر موجود یا غیر فعال ہونے کے باوجود، بہت سے تعلیمی ادارے نیشنل اسکالرشپ پورٹل اور یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن (UDISE) دونوں پر رجسٹر ہونے میں کامیاب ہوئے۔اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
اسکالرشپ کی ان دھاندلیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد اقلیتی امور کی وزارت نے 830 ملوث اداروں سے وابستہ کھاتوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

