مظفر نگر: اسکول ٹیچر نے ہندو بچوں سے مسلمان بچوں کو تھپڑ مارنے کو کہا

لکھنؤ : 25؍اگست (اپنا وطن نیوز ڈیسک)

اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع کی ایک خاتون ٹیچر کے دماغ میں مسلمانوں کے تئیں پایا جانے والا زہر اس وقت منظر عام پر آیا جب اس خاتون ٹیچر کی حرکات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔

وائرل ویڈیو میں ٹیچر کی جانب سے  کہتے سنا گیا کہ’’میں نے اعلان کیا ہے کہ تمام مسلمان بچوں کو (میری جگہ) بھیج دیا جائے، ارے، تم اسے زور سے کیوں نہیں مارتے (وہ مسلمان بچہ ہے، ہے نہ)‘‘۔

تفصیلات کے مطابق مظفر نگر کے منصور پور تھانہ علاقے کے کھُبا پور گاؤں میں نیہا پبلک اسکول کی ٹیچر ’’ترپتا تیاگی‘‘ ایک مسلمان بچے کو ہندو بچوں کے ہاتھوں ایک کے بعد دیگرے تھپڑ رسید کرنے کی ہدایت دے رہی تھیں جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’X‘‘ پر وائرل ہوگیا۔ ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی  ہر طرف اس خاتون ٹیچر کی مذمت ہورہی ہے۔

مظفر نگر پولیس نے اس خصوص میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس افسر نے ایک ویڈیو پیام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کا نوٹس لے لیا گیاہے، پولیس قابل اعتراض چیزوں پر کارروائی کرنے کی آپ کو یقین دہانی کر رہی ہے!!

متاثرہ مسلمان بچے کے والد ارشاد نے بتایا کہ اس نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے۔ وہ اسکول/ٹیچر کے خلاف کسی قانونی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہتا کیونکہ وہ نہیں سمجھتا کہ انصاف کی کوئی گنجائش ہے۔

بعد ازاں اس نے بتایا کہ خاتون ٹیچر نے پولیس کے روبرو اس واقعہ پر معافی مانگی ہے لہذا میں اب اس کے خلاف پولیس میں کسی قسم کی شکایت درج نہیں کرواؤں گا۔

معصوم مسلم بچے کو ہندو بچوں سے ایک کے بعد دیگرے تھپڑ مارنے لگا نا اور زور سے مارنے کی بچوں کو ہدایت دینے کے ویڈیو پر سوشل میڈیا میں خاتون ٹیچر کے خلاف زبردست مہم چھڑ گئی ہے۔ 

سوشل میڈیا صارفین اسے نفرت کے بیج سے تعبیر کررہے ہیں تو کوئی کہہ رہا ہے کہ بچوں کی یہ ذہنیت معاشرے کو ناسور بنا دے گی۔

سمت چوہان نامی صارف نے لکھا کہ’’

کتنی ظالمانہ ویڈیو ہے۔ ایک معصوم طالب علم کے ساتھ ایسی گھناؤنی حرکت کرنے والے استاذ کی جگہ کلاس روم میں نہیں بلکہ جیل میں ہونی چاہیے۔ اگر ایک استاد بھی طلباء میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کرے تو اس ملک کا کیا بنے گا؟ اس ویڈیو کی تحقیقات کرائی جائے اور ملزم استاد کو گرفتار کیا جائے۔ مسلمان بچے کے ساتھ اس طرح کا امتیاز برداشت سے باہر ہے۔ ہم کیسا ملک بنا رہے ہیں؟

سوشل میڈیا صارفین خاتون ٹیچر کی گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے دیکھے گئے۔