7 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ملازمین رمضان کی رونقوں سے محروم
’’حکومت بدلی لیکن رویہ نہیں‘‘۔ملازمین کا الزام
فوری تنخواہوں کی جرائی کا مطالبہ
حیدر آباد : 3/اپریل (پریس نوٹ)
ریاست تلنگانہ میں حکومت تو بدل گئی لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے بعض عہدیداران کی کارکردگی میں کوئی واضح تبدیلی دیکھی نہیں جارہی ہے۔
7 ماہ سے تنخواہوں کی عدم اجرائی کے باعث بعض محکمہ اقلیتی بہبود کے عارضی ملازمین رمضان کے مقدس مہینہ میں بھی فاقہ کشی پر مجبور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، افشاں ابرار، صدر تلنگانہ اسٹیٹ اردو کمپیوٹر کم لائبریری ایمپلائز ویلفیر اسوسی ایشن کے بموجب میناریٹی فینانس کارپوریشن کے تحت تلنگانہ بھر میں 142 عارضی ملازمین اردو کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس و لائبرریز میں خدمات انجام دینے کے لئے معمور ہیں تاہم ان ملازمین کو گذشتہ سات ماہ سے تنخواہوں کی عدم اجرائی کے باعث وہ ان دنوں کسمپرسی کا شکار ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کارپوریشن کے عہدیداران سے اس خصوص میں بارہا نمائندگی کے بعد بھی وہ ملازمین کو تنخواہوں کی اجرائی میں ناکام ہیں اور حکومت سے بجٹ کی عدم دستیابی کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔
رمضان کے مقدس مہینہ میں بھی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے عہدیداران کا رویہ قابل مذمت ہے ۔ تنخواہوں کی عدم وصولی کے باعث ان کمپیوٹر سنٹرس و لائبرریز کے 142 ملازمین اور ان کے اہل وعیال کئی پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں، چاہے وہ خاندان کی کفالت ہو یا پھر بچوں کے اسکول کی فیس، ضروری اشیاء کی خریداری ہو یا رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے اخراجات، ملازمین کئی طرح کے مصائب میں مبتلا ہیں۔
ان مسائل کی جانب اعلیٰ عہدیداران کی توجہ دلانے کے باوجود تاحال تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوسکی ہے.
چونکہ عید الفطر میں اب صرف چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں لہذا ارباب مجاز بالخصوص وزیر اعلیٰ تلنگانہ و وزیر اقلیتی بہبود ریونت ریڈی، مشیر حکومت تلنگانہ محمد علی شبیر، صدر نشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن عبید الہ کوتوال سے اپیل ہے کہ وہ ان عارضی ملازمین کی ادا شدنی تنخواہوں کی فوری اجرائی عمل میں لائیں تاکہ عید کی خوشیوں میں مذکورہ ملازمین بھی شریک ہوسکیں۔