نریندر مودی نے تلنگانہ کے عادل آباد میں 56 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغاز کیا

گورنر تلنگانہ اور چیف منسٹر بھی تھے موجود

عادل آباد : 4/مارچ (محمد عابد علی/اپنا وطن نیوز)

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں 56,000 کروڑ روپیوں سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں جن میں بجلی، ریل اور سڑک کے شعبے شامل ہیں، کا افتتاح کیا، منصوبوں کو ملک کے نام وقف کیا اور کئی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

مذکورہ پراجیکٹس ملک کی کئی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں قابل ذکر تلنگانہ میں واقع پداپلی میں این ٹی پی سی کے تلنگانہ سپر تھرمل پاور پروجیکٹ کے 800 میگاواٹ (یونٹ-2) کو ملک کے نام وقف کرنا شامل ہے۔

الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی پر مبنی، یہ پروجیکٹ تلنگانہ کو 85 فیصد بجلی فراہم کرے گا اور ہندوستان میں این ٹی پی سی کے تمام پاور اسٹیشنوں میں تقریباً 42 فیصد کی سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی کارکردگی کا حامل ہوگا۔ وزیراعظم نے سابق میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔

بعد ازاں انھوں نے تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عادل آباد کی سرزمین آج ملک کے کئی علاقوں کی ترقی کی تاریخ لکھ رہی ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے ان کی حکومت نے تلنگانہ کی ہر سطح پر ترقی کی کوشش کی۔

ان کی حکومت ریاستوں کی ترقی ہی ملک کی ترقی کے فارمولے پر کام کرتی ہے ۔ملک 8.4 کی شرح سے ترقی کررہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہندوستان دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔

ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت والا ملک بننے جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غریب سے غریب کی ترقی اور اسے حکومتی فوائد سے آراستہ کرنا ان کی حکومت کا نصب العین ہے۔

ملک کے 25 کروڑ لوگ خط غربت سے اوپر اٹھے ہیں۔مرکزی اور ریاستی حکومتیں آپس میں تال میل کے ذریعہ کام کریں گی تاکہ عوام کی ترقی و فلاح و بہبود ممکن ہوسکے۔

قبل ازیں وزیر اعظم نے 30 سے زائد ترقیاتی کاموں کا افتتاح انجام دیا جن میں  جدید الیکٹریفائیڈ امباڑی – عادل آباد – پمپل کوٹھی ریل لائن کو ملک کے نام وقف کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے  تلنگانہ کو مہاراشٹر اور تلنگانہ کو چھتیس گڑھ سے جوڑنے والے دو بڑے نیشنل ہائی وے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

عادل آباد میں منعقدہ پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے جھارکھنڈ کے چترا میں نارتھ کرن پورہ سپر تھرمل پاور پروجیکٹ کا 660 میگاواٹ (یونٹ-2) ملک کے نام وقف کیا۔ یہ ملک کا پہلا سپر کریٹیکل تھرمل پاور پروجیکٹ ہے جس کا تصور اتنے بڑے پیمانے پر ایئر کولڈ کنڈینسر (اے سی سی) سے کیا گیا ہے جو روایتی واٹر کولڈ کنڈینسر کے مقابلے میں پانی کی کھپت کو ایک تہائی تک کم کر دیتا ہے۔ اس پروجیکٹ کے کام کا آغاز بھی وزیر اعظم نے کیا تھا۔

اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے سون بھدرا، اتر پردیش میں سنگرولی سپر تھرمل پاور پروجیکٹ، مرحلہ-III (2×800 میگاواٹ)، چھتیس گڑھ میں لارا، رائے گڑھ میں فلو گیس CO2 سے 4G ایتھنول پلانٹ؛ آندھرا پردیش میں سمہادری، وشاکھاپٹنم میں سمندری پانی سے گرین ہائیڈروجن پلانٹ؛ اور چھتیس گڑھ کے کوربا میں فلائی ایش پر مبنی ایف اے ایل جی ایگریگیٹ پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔

وزیر اعظم نے راجستھان کے جیسلمیر میں نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے 380 میگاواٹ سولر پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے سے ہر سال تقریباً 792 ملین یونٹ سبز توانائی پیدا کی جائے گی۔

وزیر اعظم اتر پردیش کے جالون میں بندیل کھنڈ سور اورجا لمیٹڈ کے 1200 میگاواٹ جالون الٹرا میگا رینیوایبل انرجی پاور پارک کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پارک ہر سال تقریباً 2400 ملین یونٹ بجلی پیدا کرے گا۔

اس کے علاوہ انھوں نے اتر پردیش میں جالون اور کانپور دیہات میں ستلج جل ودیوت نگم (ایس جے وی این) کے تین شمسی توانائی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

ان منصوبوں کی کل صلاحیت 200 میگاواٹ ہے۔ ان منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی وزیراعظم نے رکھا تھا۔ وزیر اعظم اترکاشی، اتراکھنڈ میں منسلک ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ نیتوار موری ہائیڈرو پاور اسٹیشن کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم بلاس پور، ہماچل پردیش اور دھوبری، آسام میں ایس جے وی این کے دو شمسی منصوبوں اور ہماچل پردیش میں 382 میگاواٹ سنی ڈیم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

وزیر اعظم نے یوپی کے للت پور ضلع میں ٹی یو ایس سی او کے 600 میگاواٹ للت پور سولر پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ 1200 ملین یونٹ سبز توانائی پیدا کی جائے گی۔

اس تقریب میں وزیر اعظم کے ہمراہ گورنر تلنگانہ تملاسائی سوندراجن، چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی، مرکزی وزیر کشن ریڈی، رکن پارلیمان عادل آباد سوئم باپو راؤ، رکن اسمبلی عادل آباد پائل شنکر موجود تھے۔