عادل آباد کے ممتاز ادیب، محقق، نقاد و تبصرہ نگار ۔ ڈاکٹر ایم۔اے۔قدیر

قارئین کرام ’’اپنا وطن نیوزپورٹل‘‘
السلام علیکم ۔
آپ کو یہ اطلاع دیتے ہو ئے مسرت ہو رہی ہے کہ ہم نے اپنے نیوز پورٹل کے افتتاح کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ یہ صرف نیوز کی حدتک محدود نہیں رہے گا بلکہ شعرا وادبا کی تخلیقی کا وشوں  ، بچوں کا ادب اور خواتین کے لئے بھی‎ مضامین پیش کئے جائیں گے۔امید کہ آپ کو یہ سلسلہ پسند آئے گا۔
اسی کڑی کے طور پر آج ہم عادل آباد کی ایک جانی مانی شخصیت، جو دنیائے ادب میں محتاج تعارف نہیں جن کے بارے میں عادل آباد کے کہنہ مشق شاعر جناب شاخ انور رقمطراز ہیں۔
’’ مسکراتا ہوا چہرہ ، کلین شیو ، کشادہ پیشانی، کھلتا ہوا رنگ ، اپنی ذہانت ،فطانت، فراست اور لیاقت کا اعلان کرتی ہوئی بڑی بڑی چمک دار آنکھیں ۔ قد آور ، خوش مزاج اور خوش گفتار، خوش اخلاق، کم گو ، معصوم ، شریف النفس، مہذب ،اعلیٰ تعلیم یافته ، نیک سیرت، نیک صفت، خدا ترس، ادیب، محقق ، نقاد اور مبصر ۔
یہ شخصیت کسی اور کی نہیں بلکہ اردو زبان وادب کے ایک ڈاکٹر کی ہے جن کا نام ڈاکٹر ایم اے۔ قدیر ہے۔
(ماہنامہ رہنمائے تعلیم جدید نئی دہلی 2013 )
ممتاز افسانہ نگار رحیم انور ( کا ماریڈی) نے ان کا تعارف یوں پیش کیا ۔۔۔۔
ہمہ اضاف تخلیق کا ر، ہر پل کچھ نیا کرنے کی للک ۔ سوچ سمندر ذہین۔ حرف و لفظ کے پارکھ۔ پرشکوہ پوشاک – بارعب سراپا – ہر نفس معاون و مدد گار، آنکھوں میں چمک، چہرے پہ شفق، ہونٹوں پر تبسم ہلکا سا۔
حیدرآباد کی ممتاز افسانہ نگار و شاعرہ فاطمہ تاج لکھتی ہیں۔
وضع داری، انکساری، خوش سلیقگی، خوش لباسی ، نرم و مترنم لہجہ، خلوص اور محبوبیت کے خمیر کو اگر نرگیسیت کے شبنمی آنسو میں گوندھنے کے بعد خودپسندی کی نرم دھوپ میں سکھا کر انسانیت کا کوئی پیکر تیار کیا جائے تو آپ بلا جھجک ڈاکٹر ایم۔ اے۔ قدیر کے نام سے پکار سکتے ہیں۔
چودہ پندرہ برس کی عمر میں ڈاکٹر ایم اے قدیر کی نثری نگارشات رسائل کی زینت بننے لگی تھیں ۔
’’اک آگ کا دریا ہے‘‘ ان کا پہلا افسانہ ہے جو گونج نظام آباد میں شائع ہوا ۔ پھر لکھنے کی رفتار اتنی تیز ہوئی کہ انہوں نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ شخصیات پر مضامین لکھے۔
پروفیسر رحیم الدین کی یوم پیدائش کے موقع پر 1992ء میں انتظامیہ نے انھیں مدعوکیا تو انہوں نے اس تقریب کو یادگا ربنانے کے لئے پروفیسر رحیم الدین (عثمانیہ یونیورسٹی و بانی نیو پروگریسیو ہائی اسکول کا چی گوڑہ) کی حیات پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ 21؍ نومبر 1992 ء کو اس وقت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر پی وی رنگا راؤ کے ہاتھوں بھارتی ودیا بھون تھیٹر میں اس کی رسم اجرائی عمل میں آئی۔
پھر طلبہ کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوے فلسفه و تنظیم مدرسہ ، پھر افسانوی مجموعہ’’ آخری صفحۀ ‘‘ناول ” رخت سفر ‘‘ قاضی مشتاق احمد پر تحقیقی مقالے، تنقید و تبصروں پر مشتمل پانچ کتابیں میزان، تیسری آنکھ ، زاویہ نگاہ’۔کہکشان ادب، لفظوں کی مہک، سمٹتے دائرے۔ بچوں کے ادب پر توجہ کی تو چار کتابیں، تحقیق و تنقید پر (2) کتابیں ۔اس طرح بہت ہی کم عرصہ میں ان کی اب تک 18 کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ چار زیر ترتیب ہیں ۔ ان کتابوں پر ہندوستان کی کئی اکادمیوں نے تعاون بھی کیا اور انعام سے بھی نوازا۔
 ڈاکٹر ایم اے قدیر جہاں ایک اچھے نثر نگار، نقاد و مبصرہیں وہیں ایک اچھے شاعر او بہترین ناظم مشاعرہ بھی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کی شخصیت ہمہ جہت شخصیت ہے۔
ڈاکٹر قدیر کے فن کی طرح ان کی شخصیت میں بھی ایک ایسی دلکش انفرادیت ہے جس سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہا جا سکتا ۔ یہ انفرادیت وقار ،خوش سلیقگی، باقاعدگی، لطافت اور انسان دوستی کے حسین امتزاج کی تشکیل کردہ ہے۔
ڈاکٹر ایم اے قدیر کی زبان خالص اردو ہے ۔ با معنی جملے لکھنا ان کا کمال ہے۔ نثر میں ابہام سے گریز ان کی ادا ہے۔ اسی وجہ سے تحریر میں شگفتگی آگئی ہے ۔ ان کے جملے سے سلیقہ مندی ٹپکتی ہے۔ ان کی تحریر میں ایک ٹہراؤ اور چاشنی پائی جاتی ہے ۔ ان کا اپنا ایک اسٹائیل ہے ۔ ممتاز افسانہ نگار قاضی مشتاق احمد رقمطراز ہیں۔
’’ قدیر نے مجھ ناچیز کے فن و شخصیت پر مقالہ لکھ کر یونیورسٹی آف حیدرآباد سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اس لئے عام طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ ان کے افسانوں پر میرے طرز کی چھاپ ہوگی ۔ لیکن حقیقت ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے خوشی نہ ہوتی ۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ قدیرنے اپنی راہ خود تلاش کی اور اپنی منزل کا تعین بھی خود کر لیا ۔
وہیں پروفیسر انور الدین (سابق صدر شعبہ اردو سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد) لکھتے ہیں.
ڈاکٹر قدیر ایک ذہین تخلیق کار ہیں۔ بنیادی طور پر یہ افسانہ نگار ہیں ۔ ڈاکٹر قدیر کی نثری کاوشیں جہاں تعمیری و معلوماتی، آسمان پر شفق رنگ مناظر بناتی ہیں وہیں جستجوے صداقت کے راستوں پر بیدار ذہن کے ساتھ اصلاحی سوچوں کے ہجوم کے ہمراہ رواں دواں رکھتی ہے۔ ان کے اسلوب نگارش کی دلکشی نہ صرف موضوع کی رنگینی و رعنائی کو بر قرار رکھتی ہے بلکہ مہذب قارئین کی دلچسپی کو بھی فروغ دیتی ہے‘‘ ۔
ممتاز ادیب ، نقادو پروفیسر بیگ احساس (سابق صدر شعبہ اردو حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی) لکھتے ہیں۔
’’میں قدیر کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے تخلیقی اظہار کے لیے صنف افسانے کو اپنایا ہے جبکہ ہر تیسرا اردو لکھنے والا شعر گوئی کو ترجیح دیتا ہے ۔ کیوں کہ نثر لکھنا بے حد دشوار ہے ۔ خصوصیت کے ساتھ تخلیقی نثر” خونِ جگر‘‘ کا مطالبہ کرتی ہے۔ قدیر کی زبان صاف ستھری اور دلکش ہے ۔
ڈاکٹر ایم اے قدیر ایک اچھے نثر نگار ایک بلند پایہ تخلیقی فنکار ہیں ۔ اردو کے ادبی اور لسانی پہلووں پر ان کی گہری نظر ہے ۔ ان کی تنقیدی آرا ان کی تخلیقی بصیرت کی آئینہ دار ہے۔ یہ تنقیدیں رسمی، نصابی ، مکتبی یا پیشہ وارانہ نہیں ہیں۔ یہ غیر رسمی تنقیدیں بے حد شگفتہ اسلوب اور خوب صورت نثر میں پیش کی گئی ہیں ۔ یہ کہیں بوجھل نہیں ہوتیں اور انہیں اول تا آخر انتہائی لطف اور مسرت کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے ۔
ان کی تنقید و تبصرہ نگاری کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر محسن جلگانوی لکھتے ہیں۔
’’ڈاکٹر ایم اے قدیر کی تبصرہ نگاری کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ وہ نام اور کتاب دیکھ کر تبصرہ نہیں لکھتے بلکہ کتاب کو پڑھ کر لکھتے ہیں ۔ جہاں جہاں انھیں خوبیاں نظر آتی ہیں ان کو متعین کرتے ہیں اور خامیوں کی نشاندہی میں جارحانہ رویہ اختیار نہیں کرتے بلکہ اپنی ایک مشفقانہ رائے دے کر گزر جاتے ہیں۔ جانبدارانہ حرف زنی اور تنقیدی عصبیت کے رویہ سے انہوں نے ہمیشہ احتراز کیا‘‘ ۔
ڈاکٹر ایم اے قدیر کے تبصرے ہی نہیں بلکہ ان کی کہانیاں بھی تعمیری پہلو لیے ہوتی ہیں۔ انھیں شروع ہی سے زبان و بیان پر قدرت اور اظہار کا سلیقہ رہا۔ تیرہ چودہ سال کی عمرسے ہی انہوں نے لکھنا شروع کیا ۔ اس صغر سنی میں بھی ان کے یہاں جو پختگی، شستگی ، روانی اور قدرت زبان و بیان پائی جاتی ہے وہ قابل رشک ہے ۔
ڈاکٹر مسعود جعفری (ریڈر شعبہ تاریخ) لکھتے ہیں۔
"ڈاکٹر ایم اے قدیران افسانہ نگاروں میں سے نہیں ہیں جنھوں نے افسانہ کے نام پر مخرب اخلاق کہانیاں لکھی ہیں ۔ انہوں نے نوجوانوں کے جنسی جذبات کا استحصال نہیں کیا۔ ان کے افسانوں میں شائستگی اور رکھ رکھاؤ ملتا ہے۔ ان کی کہانیوں کے موضوعات خیالی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں ۔ زبان و بیان میں پاکیزگی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ کہیں پر بھی ہمیں ان کے افسانوں میں ابتدال کا شائبہ تک دکھائی نہیں دیتا ۔ اور نہ ہی ان کی کہانیوں میں بے راہ روی ملتی ہے۔
بقول احمد عبدالسلیم
ڈاکٹر ایم اے قدیر ایک سلجھے ہوئے اور فرض شناس ادیب ہیں۔ اور اب تک کی ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ‘‘۔
ڈاکٹر ایم اے قدیر کی اب تک اٹھارہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ جن میں کئی کتابیں’’ اسلامک بازار ‘‘اور’’ ریختہ ‘‘نے آن لائن (Digitalize) کیا ہے۔ حکومت ہند،حکومت اتر پردیش،  حکومت مہار اشٹرا و تلنگانہ نے ان کی کتابوں کو قبول کیا ۔ اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کی نصابی کتابوں میں بحثیت مصنف شامل ہیں ۔ یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ ڈاکٹر ایم اے قدیر کی شخصیت ہمہ جہتی شخصیت ہے ۔ ایک اچھے ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے معلم بھی ہیں۔ جس جگہ بھی تعینات رہے انہوں نے اس کو نمونے کا اسکول بنا دیا ۔ وہ چاہے پچھڑے علاقے ہو یا شہری علاقے۔ کوئی پرائمری ہو یا مڈل یا ہائی اسکول۔ اپنی تیس سالہ اسکولی زندگی کے دوران تندہی، لگن اور جوگی کی طرح اپنے کام کو سرانجام دیا۔ اپنی جانب سے بہترین خدمات سوسائٹی کو دیں۔ حکومت کی اسکیمات روشنی پیکیج کے تحت ضلع بھر میں 22 مدر سے قائم کرتے ہوئے ایک ریکارڈ قائم کیا۔
غریب بچوں کے لیے کتابیں ، یونیفارم ، اسکالرشپ کے علاوہ معاشی طور پر کمزور تعلیم یافتہ بے روزگار لڑکوں اور لڑکیوں کی بحیثیت و دیا والنٹر تقرر کرواتے ہوئے ان کی مدد کرنا ان کا شیوہ ہے ۔ ان کے ادارے سے آج تقریباً 250 گریجویٹ اور 25 پوسٹ گر یجو یٹ ہیں جو مختلف اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان کی خدمات کے عوض میں انھیں حکومت آندھرا پردیش نے ریاستی سطح پر بہترین استاذ کے اعزاز سے نوازا ۔وہ ایک ہر دلعزیز استاد اور ایک کامیاب رہنما کے طور پر عوام کی پہلی پسند ہے. ترک تعلیم کرنے والے طلبا میں تعلیم کا رجحان پیدا کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھنے کے لئے اُکساتے ہیں۔
بقول تبسم (ان کی شاگردہ)
ڈاکٹر ایم اے قدیر بڑی خاموش طبعیت کے مالک ہیں ۔وہ سنتے زیادہ اور بولتے کم ہیں ۔ پڑھاتے وقت بے تکان بولتے ہیں۔ آپ کا انداز تکلم اور سمجھانے کا انداز بھی نرالا ہے ۔ آپ کی شخصیت میں بڑی جاذبیت اور کشش ہے جو کوئی آپ سے ایک بار ملتا ہے آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ جہاں وہ بزرگوں کا احترام کرتے ہیں تو بچوں سے پیار بھی آپ کی سرشت میں شامل ہے۔ آپ کو علم و فضل میں ملکہ حاصل ہے۔ اس کے باوجود کردار میں بے انتہا سادگی اور اپنا پن ہے ۔ اچھا انسان وہی ہے جس کے کردار اور گفتار میں تضاد نہ ہو ۔آپ کا ظاہر بھی باطن کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر ایم اے قدیر زندگی کے نشیب و فراز سے گزرے ہیں۔ انہوں نے سنگلاخ زمینیوں ، صحرا کی تند تیز ہو اؤں ، دھوپ اور گھنے جنگلوں میں سفر کئے ہیں ۔ ان تجربات مشاہدات نے انھیں سنجیدگی اور بردباری کے ساتھ فکر عمیق کی دولت بخشی جس کے نمایاں اثرات ان کی تحریروں میں موجو دہیں۔ بچوں کے لئے لکھتے ہیں تو انکی عمر اور ان کے معیار کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ بڑوں کے لیے لکھتے ہیں تو اپنا انداز بدل دیتے ہیں ۔سیمیناروں میں مضمون پڑھتے ہیں تو ایک عجیب سا سماں باندھ دیتے ہیں ۔ ملک کے مختلف مقامات حیدرآ باد، دہلی، بنگلور، ہاسن، ناگپور،  جیسے مقامات پر انہیں بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کی بوقلمونی اور جذبے کی صداقت پائی جاتی ہے۔ یہی نہیں کہ ان کے افسانوں میں ہلکا ہلکا طنز بھی ملتاہے۔ کبھی طنز شدت بھی اختیار کر جاتا ہے۔’’ آخری صفحہ‘‘ کے نام سے ایک افسانوی مجموعہ اور ’’رخت سفر‘‘کے نام سے ناول منظر عام پر آچکے ہیں ۔
ڈاکٹر ایم اے قدیر عصر حاضر کے ایک اچھے اور با صلاحیت افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانے دیر تک اپنا تا ثر قاری کے ذہن پر چھوڑتے ہیں۔ ان میں احساس کی شدت بھی ہے اور فنکارانہ چابکدستی بھی۔ ان کے افسانوں میں حرکت کرنے والے کردار نظر آتے ہیں۔ واقعات کو تسلسل کے ساتھ بیان کرنا اور پھر ان میں رنگ آمیزی کرنا ڈاکٹر ایم اے قدیر کے فن کا خاصہ ہے۔ اسی لیے ان کے افسانے زندگی کے قریب لگتے ہیں۔ افسانوں کی بہ نسبت مکالموں کی چستی اور کرداروں کی تخلیق ایم اے۔ قدیر کے فن کی پختگی کا آئنہ دار ہے ۔حال ہی میں آپ کی بچوں کے ادب پر تحریر کردہ ناول ’’شموّ اور روبوٹ کی دنیا‘‘کو قومی سطح پر انعام اول مبلغ 50 ہزار روپئے انعام سے نوازا گیا۔