بہار : 2 روپئے رشوت کے مقدمہ میں 37 سال بعد عدالت کا فیصلہ

Rs.2 bribe .. 37 years trial

پٹنہ : 4 ؍ اگست ( انٹر نیٹ ڈیسک )

ہمارے ملک میں نہ صرف ریل گاڑیاں تاخیر کے لئے پہچانی جاتی ہیں بلکہ اب تاخیر سے دئیے جانے والے عدالتی فیصلے بھی سرخیوں میں آنے لگے ہیں۔

ریل گاڑیاں تو آدھے ایک گھنٹے میں تاخیر سے اپنے اسٹیشن پہنچ جائیں گی لیکن عدالت کے چند فیصلوں کے لئے زندگی بھر انتظار کرنا پڑتا ہے۔

عدالتوں میں کروڑوں کے اثاثہ جات کے معاملے ہوں،  گھناؤنے جرائم کے معاملات ہوں، یا پھر صرف چھوٹے موٹے جرائم کے معاملات ہوں ، ان میں عوام  کو کبھی کبھار دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ایک ایسا ہی عدالتی فیصلہ جو کہ صرف  2 روپے رشوت کا تھا،  37 سال طویل ٹرائل کے بعد آیا ہے۔

37 سال طویل ٹرائل کے بعد عدالت نے ملزمان جن میں پانچ پولیس اہلکار شامل ہیں کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔

ان سب کو اپنی ملازمتوں سے سبکدوش ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک مقدمہ سال 1986 میں بہار کے بیگوسرائے ضلع بھاگلپور میں درج کیا گیا تھا۔

لوکھو چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی چیکنگ کرنے والے پانچ پولیس اہلکار موٹر سائیکل سواروں سے 2 روپے رشوت لیتے تھے۔ بیگوسرائے کے ایس پی اروند ورما، جو اس وقت ایس پی کے طور پر کام کر رہے تھے، شکایت ملنے کے بعد انھوں نے رشوت لینے والے پولیس عملہ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا۔

ایک منصوبے کے تحت اسی سال 10 جون کی رات انھوں نے ایک گاڑی کے ڈرائیور کو دو روپے کا دستخط شدہ نوٹ دیا جو چیک پوسٹ کی طرف جا رہا تھا۔

انھوں نے اس شخص کو تاکید کی کہ اگر چیک پوسٹ پر پولیس عملہ رشوت طلب کرے تو انھیں یہ نوٹ دیدی جائے۔

ایس پی کے منصوبہ سے بے خبر پولیس عملہ نے گاڑی والے شخص کو روکا اور بطور رشوت 2 روپے کا مطالبہ کیا۔اس شخص نے انھیں ایس پی کی دستخط شدہ نوٹ تھمادی۔

بعد ازاں ایس پی نے چیک پوسٹ کے قریب جا کر پولیس اہلکاروں کی جیبوں کی تلاشی لی تو انھیں ان کی دستخط والا ایک نوٹ ملا۔

تاہم پولیس ملزمین رامارتھن شرما، کیلاس شرما، گیانی شنکر، یوگیشور مہتو اور رامبلک رائے کے خلاف عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی  جس کے نتیجے میں بھاگلپور کے ایڈیشنل جج نے تمام ملزمان کو 37 سال طویل ٹرائل کے بعد بری کر دیا۔