اقلیتی اقامتی اسکول عادل آباد میں پیش آئے گھناؤنے واقعہ کے بعدٹمریز کی ساکھ متاثر، انتظامیہ کے خلاف کاروائی کرنے عوام کا مطالبہ
عادل آباد : 12/اکتوبر (اپنا وطن نیوز)
تلنگانہ کے ضلع عادل آباد مستقر پر پیش آئے جنسی ہراسانی کے ایک گھناؤنے واقعہ کے بعد اقلیتی طبقہ میں بے چینی کی کیفیت دیکھی جارہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق ٹمریز سوسائٹی کے تحت مستقر عادل آباد کے چاندہ علاقہ میں واقع اقلیتی اقامتی اسکول (بوائز 2) میں تین روز قبل ایک واقعہ پیش آیا جس میں جماعت ہفتم کے طلبا نے جماعت پنجم میں زیر تعلیم ایک طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
متاثرہ طالب علم کی خرابی صحت کے بعد والدین نے اسے رمس میڈیکل کالج سے رجوع کرتے ہوئے علاج معالجہ کروایا اور اپنے لڑکے کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کی شکایت بروز چہارشنبہ عادل آباد رورل پولیس اسٹیشن پہنچ کر کی۔

سرکل انسپکٹر عادل آباد رورل پولیس نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیتی اقامتی اسکول بوائز 2 چاندہ میں جماعت ہفتم میں زیر تعلیم 3 لڑکوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس مزید تحقیقات کررہی ہے۔
متاثرہ لڑکے کے والدین نے الزام عائد کیا کہ ان کے لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور متاثرہ لڑکے کی جانب سے عدم تعاون کے بعد سینئر طلبا نے اس کے ساتھ مار پیٹ بھی کی ۔
والدین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جب انھوں نے اس گھناؤنے واقعہ کی شکایت اسکول انتظامیہ سے کی تو وہ ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرتا رہا جس کے بعد انھوں نے پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر اس واقعہ کی شکایت درج کروائی۔
بتایا جاتا ہے کہ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسکول انتظامیہ نے چند طالب علموں کو ٹی سی حوالے کرتے ہوئے اسکول سے بیدخل کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر واقعہ سے متعلق خبروں کے وائرل ہونے کے بعد مقامی عوام بالخصوص اقلیتی طبقہ کی عوام میں شدید بے چینی دیکھی گئی اور لوگ اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے دیکھے گئے۔
عوام کا تاثر تھا کہ ٹمریز اداروں میں جہاں کارپوریٹ طرز کی انگریزی تعلیم دی جارہی ہے وہیں موجودہ حالات میں ان مدارس کے طلبا کو اخلاقی تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے۔

