یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرنے وزیر اعلیٰ تلنگانہ کا تیقن

AIMPLB Leaders met with KCR

حیدرآباد : 10 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز بیورو )

یکساں سول کوڈ کے مسٗلہ پر آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹڑ کے۔ چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی زیر سرپرستی  بورڈ کے ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ تلنگانہ سےمطالبہ کیا کہ بی آر ایس پارٹی یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرے ۔

بعد ازاں رکن پارلیمان حیدر آباد و صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ۔۔۔۔

ہم نے تلنگانہ کے سی ایم کے سی آر سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ بی جے پی حکومت کے ذریعہ تجویز کردہ یو سی سی پر تبادلہ خیال کیا۔

ہم نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عیسائیوں کا بھی مسئلہ ہے، اس سے ملک کی خوبصورتی اور ثقافت تباہ ہو جائے گی۔

اگر یو سی سی متعارف کرایا جائے گا تو قوم کی تکثیریت ختم ہو جائے گی جو اچھی بات نہیں۔

 

AIMPB


پی ایم مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کو تکثیریت پسند نہیں ہے جو ہمارے ملک کا حسن ہے۔ سی ایم کے سی آر نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ یو سی سی کی مخالفت کریں گے۔

وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے لوک سبھا و راجیہ سبھا میں اپنے پارٹی فلور لیڈرس کو بھی اس اجلاس میں مدعو کیا اور انھیں یو سی سی کی مخالفت کرنے کی ہدایت دی۔

اس کے علاوہ انھوں نے ہم خیال پارٹی لیڈران سے بھی اس مسلہ پر مشاورت کرنے کی بات کہی۔


وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے سی آر کے ساتھ ریاست کے مسلمانوں کو درپیش کئی دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جن میں سکریٹریٹ کی مساجد کا افتتاح، اوورسیز اسکالرشپس کے مسائل، میناریٹی فینانس کارپوریشن کے تحت قرضہ جات کی فراہمی کے علاوہ اقلیتی بہبود کے دیگر مسائل پر ان سے گفتگو کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ہم آندھرا پردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی سے بھی ملاقات کے لئے وقت مانگ رہے ہیں جن سے ملاقات کے بعد مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ بھی یکساں سول کوڈ  کی مخالفت کریں۔


ملاقات کے دوران ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی، ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے تارک راما راؤ حکومت کی جانب سے موجود تھے۔

جبکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد میں ، صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی، اے آئی ایم آئی ایم فلور لیڈر اکبر الدین اویسی  کے علاوہ تلنگانہ کے علمائے اکرام و مشائخین موجود تھے جن میں

مفتی خلیل احمد صاحب،شیخ جامعہ، جامعہ نظامیہ اور رکن AIMPLB، مولانا اکبر نظام الدین حسینی صابری صاحب،وائس چانسلر جامعہ نظامیہ، بانی ممبر اے آئی ایم پی ایل بی، مولانا ڈاکٹر محمد متین الدین قادری صاحب، بانی ممبر اے آئی ایم پی ایل بی، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی صاحب جماعت مہدویہ اور بانی رکن AIMPLB، مولانا ڈاکٹر مشتاق علی صاحب،نائب صدر آل انڈیا مجلس تعمیرملت ،ممبر اے آئی ایم پی ایل بی،
مفتی غیاث الدین رحمانی صاحب ،صدر جمعیۃ العلماء، تلنگانہ، حافظ پیر شبیر صاحب صدر جمعیۃ العلماء، تلنگانہ، مولانا حامد محمد خان صاحب جماعت اسلامی، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشا صاحب، امیر امارت ملت اسلامیہ، مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین رضا حیدر آغا صاحب،شیعہ برادری، جناب ضیاء الدین نیئر صاحب، صدر مجلس تعمیرملت، جلیسہ یاسمین سلطانہ ایڈووکیٹ صاحبہ، کنوینر لیڈیز ونگ AIMPLB، جناب مولانا شفیق عالم صاحب
جماعت اہلحدیث، سید احمد علی حسینی القادری سید بابا صاحب، صدر قادریہ انٹرنیشنل، اظہر حسین جماعت اسلامی و دیگر موجود تھے۔