فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کے ضمن میں چیف منسٹر کی زیر صدارت کابینی سب کمیٹی کے اہم اجلاس کا انعقاد
حیدر آباد : 05/فروری (اپنا وطن نیوز)
ضلع نظام آباد کے بودھن شہر مستقر پر قائم نظام دکن شوگر فیکٹری کے احیا کی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی بند پڑی ہوئی اس فیکٹری کے دوبارہ آغاز کی امیدیں جاگ رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے اس تاریخی فیکٹری کے احیا کے ضمن میں کابینی سب کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی تھی جس کا کل ریاستی چیف منسٹر کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ریاستی وزیر اعلیٰ مسٹر ریونت ریڈی نے وزرا کی سب کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ بند پڑی ہوئی نظام شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کے ضمن میں کن طریقوں پر عمل کیا جائے اس خصوص میں جلد از جلدمناسب تجاویز و رپورٹ سے حکومت کو واقف کرائے۔
اس کے علاوہ بودھن، متیامپیٹ میں بند پڑی ہوئی شوگر فیکٹریوں کے بقایہ جات اور اور مالیتی دشواریوں کے ضمن میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی طرح متعلقہ علاقوں میں گنے کے کاشتکاروں کی ضروریات اور کسانوں کو درپیش موجودہ مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیف منسٹر نے کابینی سب کمیٹی کی رپورٹ کے حصول کے فوری بعد اس مسلہ پر مزید اجلاس منعقد کرنے اور فیصلہ لینے کی بھی بات کہی۔
واضح ہو کہ 17/اپریل 1937 کو نظام دور حکومت میں اس تاریخی شوگر فیکٹری کا قیام عمل میں آیا تھا۔
یہ اس علاقہ کے عوام کے لئے روزگار فراہم کرنے والی بڑی فیکٹری تھی جسے بعد میں بند کردیا گیا۔
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹریٹ میں منعقد شدہ اس اجلاس میں ریاستی وزیر صنعت سریدھر بابو، کے علاوہ وزراء دامودر راجا نرسمہا، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، رکن قانون ساز کونسل جیون ریڈی، رکن اسمبلی بودھن سدرشن ریڈی، روہت راؤ، ادلوری لکشمن کمار، سابق ایم ایل اے اے۔ چندر شیکھر اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

