مظفر نگر پولیس نے کانوڑ یاترا کےروٹ پر دکانداروں سے دکانوں پر اپنا نام لکھنے کو کہا

 پولیس کا حکم غیر آئینی اورمسلم مخالف : رکن پارلیمان حیدر آباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کا بیان

نئی دہلی: 19/جولائی (ویب ڈیسک)

کانوڑیاتریوں کے درمیان الجھن اور کسی قسم کے تذبذب کی حالت سے بچنے کے لیے اتر پردیش کے مظفر نگر میں پولیس نے ضلع میں کانوڑ یاترا کے راستے پر واقع کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے ہوٹل، ڈھابوں اور دیگر دکانوں کو اپنے مالکان اور ملازمین کے نام دکانوں کے باہر لکھنے کو کہا ہے۔

مظفر نگر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے ٹھیلے والوں سے بھی اس کی تعمیل کرنے کو کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے پس پردہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ‘ کانوڑیوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی الجھن اور تذبذب  نہ ہو اور ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو جہاں الزام تراشی کی نوبت آئے اور جس سے امن و امان کا مسئلہ  پیدا ہو۔’

بتادیں کہ ہندو تیرتھ یاتری سال کے اس مہینے(ساون کے مہینے میں) کانوڑیاترا پر نکلتے ہیں۔ اس دوران گنگا  ندی سے پانی لینے کے لیے پیدل یاتری اتراکھنڈ جاتے ہیں، پھر شیو مندروں میں جا کر پانی چڑھاتے ہیں ۔

اس سال کی یاترا سوموار (22 جولائی) سے شروع ہونے والی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق،اس مہینے کے شروع میں مظفر نگر سے بی جے پی کے ایم ایل اے کپل دیو اگروال نے کہا تھا، ‘مسلمانوں کو یاترا کے دوران اپنی دکانوں کا نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ جب عقیدت مندوں (کانوڑیوں ) کو پتہ چلتا ہے کہ جن دکانوں پر وہ کھانا کھاتے ہیں وہ مسلمانوں کے ہیں تو اس سے تنازعہ کھڑا ہوتا ہے۔‘

حیدرآباد کے رکن پارلیامنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ مظفر نگر پولیس کی طرف سے یہ ہدایات اس لیے دی گئی ہیں تاکہ کوئی کانوڑیا غلطی سے کسی مسلمان کی دکان سےکچھ نہ خریدے۔

اویسی نے اس کا موازنہ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی اور نازی جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک سے کیا۔

کانگریس لیڈر پون کھیرا نے مظفر نگر پولیس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘صرف سیاسی پارٹیوں کو ہی نہیں، بلکہ تمام لوگوں اور میڈیا کو بھی اسٹیٹ کی سرپرستی میں ہونے والے اس تعصب کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔’

کھیڑا نے کہا، ‘ہم بی جے پی کو ملک کو تاریکی  میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔’