داغدار بی آر ایس قائدین کے لئے کانگریس میں جگہ نہیں

حلقہ پارلیمان عادل آباد سے کانگریس امیدوارہ کی فتح یقینی

عوام فہرست رائے دہندگان میں اپنا نام درج کروائیں

سینئیر قائد کانگریس عادل آباد سید شاہد علی کا انٹرویو

عادل آباد : 29/مارچ (خصوصی رپورٹ)

سید شاہد علی، سینئر کانگریس قائد عادل آباد نے ماہ مئی میں منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں حلقہ پارلیمان عادل آباد سے کانگریس امیدوارہ آترم سوگنا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے ’’اپنا وطن‘‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ عوام موجودہ مرکزی حکومت کی نفرت پر مبنی سیاست سے سخت خفا ہیں اور وہ کانگریس اور اس کے قائد راہول گاندھی میں ملک کا مستقبل دیکھ رہے ہیں۔

 

سید شاہد علی، جو کہ سال 2002 سے ضلع کی سرگرم سیاست میں مصروف عمل ہیں، اور جنھوں نے یوتھ کانگریس ٹاؤن صدر، ڈسٹرکٹ جنرل سکریٹری یوتھ کانگریس اور ڈسٹرکٹ سکریٹری کانگریس کمیٹی کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں نے موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ایک خاتون آدی واسی آترم سوگنا کو

اپنا امیدوار بنایا ہے جو کہ ابتدا ہی سے غریبوں کی ہمدرد اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار رہی ہیں۔

آترم سوگنا جو کہ سابق میں سرکاری ٹیچر رہ چکی ہیں نے اساتذہ تنظیموں اور حقوق انسانی کی تنظیموں سے وابستہ رہتے ہوئے غریب و پچھڑے طبقہ کے عوام کے حقوق اور نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی جس کی وجہ سے عوام میں وہ کافی مقبول ہیں۔

سید شاہد علی نے  عوام بالخصوص اقلیتی رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کی تصدیق و تصحیح کروالیں اور ایسے 18 سال سے زائد عمر والے افراد جن کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہ ہوں وہ فوری طور پر اپنے نام ووٹر لسٹ میں شامل کروائیں۔ ووٹر لسٹ میں ناموں کی شمولیت کی آخری تاریخ 15/اپریل مقرر کی گئی ہے۔

انھوں نے مقامی سیاسی حالات پر پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ کانگریس حلقہ اسمبلی عادل آباد انچارج کندی سرینواس ریڈی کی قیادت اور انتھک جدوجہد کی وجہ سے مقامی طور پر کانگریس مزید مضبوط ہورہی ہے اور ریاستی حکومت کی عوام دوست اسکیمات و ضمانتوں پر عمل آوری نے عوام کے دل جیتے ہیں۔

انھوں نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں مقامی طور پر بی آر ایس امیدوار کی شکست کی وجوہات پر پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ جوگورامنا کو اپنوں نے ہی لوٹا تھا، ان کے ارد گرد رہنے والے بعض بی آر ایس قائدین سے عام عوام بالخصوص اقلیتیں کافی خفا تھیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ اقتدار پر قابض بعض بی آر ایس قائدین ہر کام میں غریبوں سے پیسہ طلب کررہے تھے،  اور یہاں تک کہ مسجدوں اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کے ٹنڈرس میں بھی 5 فیصد کمیشن وصول کیا گیا تھا۔ بلدیہ کی جانب سے بنائے گئے فٹ پاتھ شیڈس کے الاٹمنٹ میں بھی لاکھوں روپئے وصولے گئے، سرکاری و کھلی اراضیوں پر قبضے، فرضی دستاویزات کے ذریعہ رجسٹریشن و گھر نمبروں کا الاٹمنٹ عام بات ہوچکی تھی۔

دوسرے درجہ کے بعض بی آر ایس قائدین کی ان ہی حرکات اور ہفتہ وصولیوں سے لوگ بیزار ہوئے اور انھوں نے متبادل امیدواروں کی تلاش میں حق رائے دہی کی۔

بعض بی آر ایس قائدین کی جانب سے کانگریس میں عنقریب شمولیت کی خبروں کے ضمن میں سید شاہد علی نے کہا کہ کانگریس صاف و شفاف کردار کے حامل قائدین کی جماعت ہے اور ایسے ہی قائدین کو کانگریس میں شامل کیا جانا چاہئے جو کہ عوام کی بلا لوث خدمات میں یقین رکھتے ہوں۔

ایسے قائدین جو اپنی غیر قانونی املاک اور اقتدار کو بچانے اور کانگریس کے موجودہ اقتدار سے فائدہ اٹھانے کی غلط نیت سے پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے، ایسے قائدین کا ہر سطح پر  بائیکاٹ کیا جائے گا۔


اشتہار