تحریر : محمد صمیم ، نظام آباد
شاید اسی کو کہتے ہیں کہ یہ پہلی لڑائی ارض فلسطین میں لڑی جارہی ہے جو ارض فلسطین کے باشندے اپنی عسکری صلاحیتوں اور اندرون فلسطین تیار شدہ اسلحہ کا استعمال کر رہے ہیں۔
یہ پہلی لڑائی ہے جس میں لڑائی کا آغاز فلسطینیوں نے کیا اور بھر پور انداز میں کیا۔
یہ پہلی لڑائی ہے جس میں آغاز میں ہی اسرائیلیوں کا جانی نقصان بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا۔ 1400 سے زائد ہلاکتیں اور 3 ہزار سے زائد زخمی جس میں 5 سو کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ وہ لڑائی ہے جس میں اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم کھل گیا۔ اور ایک ملک نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی عسکری قوت نے اسرائیل کو ناقابل بیان نقصان پہنچایا۔

یہ وہ لڑائی ہے جس میں Iron Doom دفائی نظام ناکام ہوا۔ امریکہ اس کی کامیابی کی مثال اسرائیل سے دیتا تھا کہ کس طرح حماس کے راکٹ و مزائل کو یہ دفائی نظام روک رہا ہے۔
اسرائیل کا surveillance نظام ہی ناکام نہیں ہوا بلکہ انٹلیجنس کا مکمل نظام ناکام ہوا۔ کیا بدنام زمانہ موساد ہو کہ ائی ایم
سب سے بڑی بات یہ کہ اب اسرائیلی عوام میں اپنی زندگیوں کے تحفظ کو لے کر خدشات پیدا ہوگئے ہیں جس کو اسرائیلی حکومت عرصہ دراز تک عوام کے ذہنوں سے نہیں نکال سکے گی اور فلسطینیوں کی سب سے بڑی یہی کامیابی ہے۔
عقلیت پسند احباب غزہ کی ہوتی ہوئی تباہی پر حماس کو لان تان کریں گے کہ کیوں حماس نے اسرائیل سے جنگ چھیڑی جبکہ وہ غزہ کا دفاع نہیں کر سکتا ۔
کئی ہزار لوگ شہید ہورہے ہیں، غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہورہا ہے۔اس کے بہت سارے جوابات ہیں لیکن۔۔۔
’’جو الله پر یقین رکھتے ہیں وہ بند گلی میں پہنچ کر بھی مایوس نہیں ہوتے اور الله انہیں بند گلیوں سے راستہ دیکھاتا ہے‘‘۔

