مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی امیدوار کو فائدہ
عادل آباد : 30/نومبر (اپنا وطن نیوز)
حلقہ اسمبلی عادل آباد میں چند ایک واقعات کو چھوڑ کر رائے دہی کا پُر امن اختتام عمل میں آیا۔ عادل آباد حلقہ میں جملہ 240326 رائے دہندوں کے لئے 290 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھےجن پر رائے دہندوں کی لمبی قطاریں حق رائے دہی سے استفادہ کرتی دیکھی گئی۔
شام 5 بجے تک حلقہ اسمبلی عادل آباد میں رائے دہی کا فیصد 72.1 فیصد درج کیا گیا جبکہ پولنگ اسٹیشنوں میں 5 بجے سے پہلے داخل ہونے والے رائے دہندے ہنوز رائے دہی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس طرح رائے دہی کے فیصد میں مزید اضافہ ہوگا۔
حلقہ اسمبلی عادل آباد میں دلچسپ مقابلہ دیکھا گیا۔ دیہی علاقوں جیسے جیند، بیلا منڈل جات میں بی جے پی اور کانگریس امیدواروں کے حق میں زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے جبکہ عادل آباد بلدیہ کی سطح پر بی جے پی اور بی آر ایس امیدواران کے مابین سخت مقابلہ دیکھا گیا۔
چند ایک محلہ جات میں کانگریس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اطلاعات ہیں تاہم بی جے پی امیدوار پائل شنکر کی مسلسل تین بار شکست کے بعد انھیں ایک موقع دینے کا رجحان اکثریتی طبقہ کے ووٹرس میں صاف دکھائی دیا۔
سیاسی تجزیہ نگار اقلیتی طبقہ کے ووٹوں کی تقسیم کے نتیجے میں بی جے پی امیدوار کی فتح کے امکانات کو زیادہ بتارہے ہیں تاہم قطعی نتیجہ 3/ڈسمبر کو آئے گا۔
قبل ازیں محلہ برہمن واڑہ کے پولنگ بوتھ پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ایک طبقہ کے رائے دہندوں کو رائے دہی میں حصہ لینے سے روکنے کی اطلاعات کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
اسی طرح گورنمنٹ ڈگری کالج (سائنس) کے پولنگ بوتھ میں موجود الکٹرانک ووٹنگ مشین پر سیاہی کا دھبہ لگ جانے اور بی آر ایس امیدوار انتخابی نشان کے نہ دکھائی دینے پر بی آر ایس نے احتجاج کیا جس کے بعد رائے دہی کو کچھ دیر روکا گیا۔
اسی طرح حلقہ اسمبلی عادل آباد کے موالا ضلع پریشد ہائی اسکول پر رائے دہی میں حصہ لینے کے لئے پہنچی ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پر بھی ایک رائے دہندے کی موت واقع ہوگئی۔

