اُردو آفیسرس کی خدمات دفترضلع کلکٹر سے ہٹاکر، ضلع اقلیتی بہبود دفتر کو منتقلی معنی خیز!

حیدر آباد : 11 /فروری ( اپنا وطن نیوز)
اُردو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے۔
لیکن ہر دور میں حکمرانوں نے اس زبان کے ساتھ انتخابات کی حد تک اپنی وابستگی ظاہر کرکے اس زبان کے بولنے پڑھنے، لکھنے اور چاہنے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا کام کیا۔
اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی اس کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔
اس کی ایک مثال اس بات سے دی جاسکتی ہے کہ اُردو داں طبقہ اور اقلیتی طبقات و نمائندوں کی بارہا نمائندگیوں کے بعد سابقہ بی آر ایس حکومت نے سی ایم او سے لے کر ضلع کلکٹر تک، تمام دفاتر میں اردو آفیسرس کا تقرر کیا تھا۔
ان کے تقرر کی بنیادی وجہ عوام سے اُردو زبان میں درخواستیں وصول کرنا، اس کا تلگو/ انگریزی میں ترجمہ کروانا اور اسے اعلیٰ حکام تک پہنچانا ہے۔
اس کے علاوہ، اردو آفیسرس متعلقہ کلکٹریٹس/کنٹرولنگ آفیسرس کے ذریعہ تفویض کردہ دیگر سرکاری فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔
حال ہی میں اُردو آفیسرس کو ادا کی جانے والی تنخواہوں کو  دفترضلع کلکٹر سے ہٹاکر ضلع اقلیتی بہبود دفتر کے تحت منتقلی کرنے کے سلسلہ میں کمشنر اقلیتی بہبود نے احکامات جاری کیے جو کہ ان کی لسانی تعصب کی غمازی کرتا ہے۔
محکمہ کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ضلع کلکٹر کے پاس اردو میں درخواستوں کی عدم وصولی کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
ایک طرف موجودہ حکومت عوام کی دہلیز تک عہدیداروں کے پہنچنے اور عوامی حکمرانی کا دعویٰ کر رہی ہے اور پرجا دربار منعقد کرتے ہوئے اپنے مسائل کو حکومت کے علم میں لانے کو کہہ رہی وہیں اردو زبان میں درخواستوں کے وصول کرنے اورعہدیداروں تک پہنچانے کے مجاز اردو آفیسرس کو ضلع کلکٹر سے ہٹاکر ضلع اقلیتی بہبود دفتر کو منتقل کرنا معنی خیز ہے۔
کمشنر اقلیتی بہبود کے ان احکامات سے اردوں داں طبقہ میں مایوسی پائی جاتی ہے اور انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور فوری ان احکامات کو واپس لینے کا چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے۔