کینسر (سرطان) کیا ہے؟

کینسر ہونے کی وجوہات، اقدامات و علاج

محمود خان (مانچسٹر)

سرطان یا کینسر ایک ایسا موذی مرض جس میں خلیےانسانی جسم کے دوسرے حصوں میں لاتعداد پھیل جاتے ہیں۔ یہ انسانی جسم کے کسی بھی حصے میں شروع ہو سکتے ہے جن کی تعداد کروڑوں میں ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالٰی نے جسم انسانی کو ایک منظم کنٹرول سسٹم کے تحت پیدا کیاہے۔ جس میں اعضاء کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ کینسر میں انسانی جسم کا کنٹرول میکانزم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے نتیجے میں یہ علم ہوا کہ 90 فیصد کینسر کا مرض جینز میں تبدیلیوں کی وجہ سے پیداہوتا ہے۔ ان میں کچھ کینسر کے مرض یا تو موروثی یا پھر کچھ دوسرے عوامل کے باعث پھیلتے ہیں۔ یہ جو دوسری طرح کے کینسر کے مرض ہیں یا تو یہ حادثاتی طور یا پھر ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں پھیلتے ہیں ۔

اس بیماری کو سب سے پہلے ایک یونانی ماہر طبیعات ہیپو کریٹس (370-470ء) نے “کارسینوز ” ایسے خلیوں کا جمگھٹا جو السر پیدا نہ کرتے ہوں اور “کارسینوا” ایسے خلیوں کے جمگھٹے جو السر پیدا کرتے ہوں کا نام دیا جسے اپنے شعبے میں طبیعات کا باپ مانا جاتا تھا۔ ویسے یونانی زبان میں اس کا مطلب کیکڑا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں کینسر کا مرض تاریخی طور ریکارڈ پر موجود ہے۔ لہٰذا اس مرض کے بارے میں حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کی دریافت پرانے کتبوں، مصری ممیوں اور کئی ہڈیوں کے دریافت شدہ نمونوں سے ہوا۔ کینسر کے مرض کی دریافت پندرہ سوسال قبل پیرووین اور مصری ممیوں کے نمونوں سے حاصل ہوئی۔ویسے موجودہ دور میں چالیس تا پچاس سال قبل اس مرض کے بارے میں معلومات حاصل ہوناشروع ہو گئی تھیں۔

کینسر انسانی جسم میں غیر معمولی خلیوں کی تقسیم در تقسیم کا مرض ہے۔ جس میں انسانی جسم کے خلیوں کے کنٹرول کرنے کا نظام کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اور یہ ان پرانے خلیوں کو جو اپنی مدت عمر پوری کر چکے ہوتے ہیں کو ختم نہیں کرتا بلکہ یہ پرانے خلیے بے قابو ہو کر تقسیم در تقسیم ہوناشروع ہو جاتے ہیں۔ جن سے غیر صحت مندانہ خلیے انسانی جسم میں معرض وجود میں آتےہیں جو اکھٹے ہو کر ایک جمگھٹا جسے ٹیومر کہا جاتا ہے، بناتے ہیں۔ یہ دو طرح کے ہوتے ہیں پہلی قسم کینسر والی ہوتی ہے جسے میلگننٹ کہا جاتا ہےجس میں یہ ٹیومر اپنے پہلے ٹیومر سے ٹوٹ کر جسم کے دوسرے حصوں میں کینسر کے نئے ٹیومر بنادیتے ہیں ۔ اس عمل کو میٹاسس(Metasis) کہاجاتاہے۔

کینسر کی چار اقسام ہیں۔

1، کارسی نوماز (Carsinomas) جو کہ جلد سے شروع ہوتاہے یا پھر جو اندرونی اعضاء و گلینڈز کو ڈھانپنے والے خلیے ہیں ان کو متاثر کرتے ہیں۔

2، ساکروماز(Sacrinomas) یہ ان خلیوں میں شروع ہوتا ہے جو مددگار ہوتے ہیں اور جسم کے نظاموں کو ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں۔

3، لیکیومیاز (Leukaemias) جو عرف عام لکیومیا کہلاتا ہے۔جو خون کا سرطان ہے۔

4, لیمفوماس (Lymphomas) کاسرطان ہے جو رگوں اور رعشوں کو متاثر کرتاہے۔

کینسر کے پھیلنے کے جو پانچ بڑے عوامل گردانے جاتے ہیں۔ ان میں سر فہرست شراب نوشی، عمر، موٹاپا، کینسر پھیلانے والے مادے، خوراک، ہارمونز، ایمیونو سپر سیشن اور انفیکشس ایجنٹس ہیں۔ دائمی سوزش، شعائیں، ہارمونز، سورج کی ڈائرکٹ شعائیں اور تمباکو نوشی بھی کینسر کی بیماری کا موجب ہیں۔ موروثی بیماریاں بھی کینسر کے مرض کا موجب بنتی ہیں۔ اس بیماری کے چند آثار ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مثلا بہت زیادہ تھکاوٹ یافٹیگ کاشکار ہونا، وزن کا بے وجہ گرنا یا بدن پہ کسی بھی جگہ سوجھن اور گھانٹوں کا بننا انسان کے لئے لمحہ فکر ہونا چاہئے ۔

کینسر کے کچھ حقائق جنہیں جاننا چاہئے جو انسان کو اس کے خوف سے نجات دلانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ کینسر کی مختلف سو سے زائد اقسام ہیں۔ یہ ہڈیوں کے گودے، ہڈیوں، خلیوں، رعشوں واندرونی اعضاء پر حملہ کرنے والی بیماری ہے۔ جلد کا کینسر مغربی معاشرے میں عام پایا جاتا ہے۔ جلد پر اسکےاثرات دھوپ میں لیٹنے اور سیکنے سے ہوتے ہیں۔ عورتوں کی بیضہ دانی اور بریسٹ میں پایا جانے والا کینسر عام ہے۔اسی طرح خون و پھیپھڑوں کاسرطان بھی باعث تشویش ہے۔

انسانی صحت نعمت خداوندی ہے اس کی حفاظت ہر ایک کافرض ہے۔ اچھی خوراک، روزانہ ورزش، صحت مندانہ ماحول، ذہنی تناؤ سے دوری اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے اصولوں پر ہر ایک کو کاربند ہوناچاہئے۔ دنیا میں اموات کے لحاظ سے کینسر دوسری بڑی بیماری ہے۔ دس ملین سالانہ اموات اس کے ذریعے ہوتی ہیں۔جبکہ 40 فیصد اموات کو روکا جا سکتا ہے جو شراب و سگریٹ نوشی، غذا کی کمی اور جسمانی ورزش کے نہ ہونے سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ شروع میں ہی اس مرض کی تشخیص اور ابتدا سے ہی علاج معالجے سے اس مرض کے چانسز کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس کے طریقہ علاج میں سرجری، متاثرہ خلیوں کا کاٹ کر جسم سے علیحدہ کرنا، ریڈیو تھراپی یا شعائیں متاثرہ ایریا پر ڈالنا تا کہ کینسروالے سیل ختم ہو جائیں۔ کیمو تھراپی، دوائیوں کا استعمال تاکہ خلیوں کی تقسیم کو روکا جاسکے۔ ایمیونو تھراپی، انسانی مدافعتی نظام کے استعمال سے خلیوں کی تقسیم کو روکنا، جین تھراپی ۔ متاثرہ جین کو نئے جین سے تبدیل کرنا ، تا کہ یہ کینسر کی سرکوبی کرسکے۔ مریض کے لئے سماجی رویے، ان کے مرض کو سمجھتے ہوئے ان کی مدد جیسے عوامل انتہائی ضروری ہیں۔