اتراکھنڈ : سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ لڑکیوں میں ’’ماس ہسٹریا‘‘ مرض کی علامات

Mass Hysteria

لڑکیاں اسکول میں چیخ و پکار کرتی اور بھاگتی دکھائی دیں

اترکاشی : 30 ؍ جولائی ( اپنا وطن نیوز )

ریاست اتراکھنڈ کے شہر اترکاشی کے دھنتری علاقہ سے مبینہ طور پر جمعرات کوایک عجیب و غریب واقعہ سامنے آیاجہاں پر تقریباً ایک درجن سے زائد طالبات نے گورنمنٹ انٹر کالج کی نئی عمارت میں داخل ہوتے ہی چیخنا شروع کردیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق اسکول کی لڑکیاں، جوعلاقہ میں شدید سیلاب کے بعد جب کل اسکول واپس ہوئیں،ان کے رویوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی دیکھی گئی۔

وہ جیسے ہی اسکول کی عمارت میں داخل ہوئیں ان میں بد حواسی، شور مچانا اوراسکولی عمارت سے بھاگنے کی علامات دیکھی گئیں۔

جہاں مقامی لوگ اسے کچھ الہامی قوتوں کا اثر اور مقامی دیوتاؤں کا قہر قرار دے رہے ہیں، ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ یہ ’’ماس ہسٹریا‘‘ کا معاملہ ہے۔

ہسٹریا مرض میں مبتلا اسکولی لڑکیوں کے بگڑے رویے۔ویڈیو میں لڑکیوں کی شناخت کو چھپایا گیا ہے۔


کیونکہ لڑکیوں نے چند دن قبل علاقہ میں شدید بارش اور سیلاب میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی تھی، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی ہوگی۔

ماس ہسٹیریا یعنی (مریضانہ جذبات یا ہیجان )ایک ذہنی رجحان کی کیفیت ہے جو بڑے پیمانے پر اضطراب کے حالات میں شروع ہوتی ہے۔

اتر کاشی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر آر سی ایس پنوارنے اس واقعہ پر میڈیا کو بتایا کہ’’ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ‘نفسیاتی مسئلہ’ ہے‘‘۔

"ہماری ٹیموں نے اس واقعہ کی وجہ سمجھنے کے لیے متاثرہ لڑکیوں سے بات کی ہے۔ کچھ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ نئی عمارت کے حوالے سے ڈراؤنے خواب دیکھ رہی ہیں اور وہ اس میں داخل ہونے سے ڈرتی ہیں۔

ہم نےان کی کونسلنگ کے لئے ایک ماہر نفسیات کو تفویض کیا ہے۔”

یہ واقعہ اسی طرح کے ایک واقعہ کے ایک دن بعد سامنے آیا، جب اسی عمارت میں کلاس روم میں دو دیگر لڑکیاں بے ہوش ہوگئیں تھیں۔

واضح ہوکہ تقریبا چھ مہینے قبل بھی اسی طرح کے ایک واقعہ میں، چمپاوت ضلع کے گورنمنٹ انٹر کالج رامک میں کم از کم 39 طالبات کو روتے، چلاتے اور اپنی جماعتوں سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔