نئی دہلی : 8/اگست(ویب ڈیسک)
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں ’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ پیش کر دیا ہے۔
اس دوران ایوان میں بہت زیادہ ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران اس بل پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے دکھائی دیے، جس پر اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ جن اراکین نے نوٹس دیا ہے ان سبھی کو بولنے کا موقع دیا جائے گا۔
کرن رجیجو نے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے یہ بل پیش کیا اور مسلم وقف ایکٹ 1923 کو ختم کرنے کے لیے ’مسلم وقف (ریپیل) بل 2024‘ بھی لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔
بل کی پیشکشی کے بعد مباحث میں حصہ لیتے ہوئے صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدر آباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اس بل کی سخت مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ بل دیش کو توڑنے کا کام کر رہا ہے جوڑنے کا نہیں۔ آپ دشمن ہیں مسلمانوں کے جس کا یہ بل ثبوت ہے۔‘‘
اس تعلق سے کانگریس رکن پارلیمنٹ ہبی ایڈین نے لوک سبھا میں رول 72 کے تحت نوٹس دیا ہے۔
لیکن کرن رجیجو نے جب ’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ لوک سبھا میں پیش کیا تو کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ایک چبھتا ہوا سوال برسراقتدار طبقہ کے سامنے رکھ دیا۔
کانگریس نے پوچھا کہ کیا ایودھیا مندر بورڈ میں غیر ہندو شامل ہو سکتا ہے؟

