ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی
آج دنیا ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی، جنگوں اور عالمی سیاسی تناؤ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، اور ہندوستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانوں خصوصاً مسلم نوجوانوں کے دلوں میں مستقبل کے حوالے سے بے چینی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ لیکن اسلام یہ تعلیم نہیں دیتا کہ ہم حالات سے مایوس ہو جائیں، بلکہ وہ ہمیں امید، صبر، حکمت اور تعمیری کردار اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن مجید کا واضح اعلان ہے جو قابل توجہ ہے "إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ” بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورۃ البقرہ: (153) اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔” (سورۃ ابراہیم (7)
یہ آیات ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ مشکلات وقتی ہوتی ہیں جبکہ اللہ کی مدد رحمت اور کامیابی صبر و شکر اختیار کرنے والوں کا مقدر بنتی ہے۔ یہ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ اسی طرح مولائے کائنات حضرت مولا على السلام نے فرمایا صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر مولا علی کا یہ قول اگر انسان اپنی زندگی میں اتار لے تو کوئی کامیابی اور کامرانی سے اس کو نہیں روک سکتا۔ ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں مایوسی سب سے بڑی محرومی ہے۔ یعنی انسان کو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے اور زندگی کی راہ میں آگے بڑھنا ہے۔ یہ تعلیمات نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مایوسی یا انتقام کا راستہ اختیار کرنا مؤمن کی شان نہیں بلکہ علم، تدبر، صبر اور حسن کردار کے ذریعہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ اہل بیت اطہار کی سیرت بھی اسی حقیقت کی آئینہ دار ہے۔ امام حسن مجتبی نے امت کے اتحاد، امن اور خونریزی سے بچانے کو ترجیح دی ہے ، جبکہ امام حسین نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیا، لیکن ساتھ ہی اخلاق، عدل اور انسانی وقار کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ کربلا کا پیغام نفرت نہیں بلکہ حق صبر استقامت اور انسانی عزت کی حفاظت ہے۔ امام حسین کا یہ قول آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ اگر تمہارے پاس دین نہیں اور آخرت کا خوف نہیں تو کم از کم دنیا میں آزاد انسان بن کر زندگی گزارو۔ یہ پیغام میں عدل، انصاف، انسانیت اور باوقار کردار کی طرف رہ نمائی کرتا ہے ، نہ کہ انتقام نفرت یا انتشار کی طرف جانے کی بات کرتا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ 1857 کے بعد جب مسلمان سخت آزمائشوں سے گزر رہے تھے تو سر سیداحمد خان نے مایوسی کے بجائے تعلیم، فکری بیداری اور قومی تعمیر کا راستہ اختیار کیا۔ صبر، حکمت اور تعلیم کے اسی سفر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بعد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے عظیم اداروں کی بنیاد رکھی، جنہوں نے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی خبریں اور مواد گردش کرتے ہیں جو نوجوانوں میں خوف، غصہ اور بے اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ ایک ذمہ دار مسلمان اور باشعور شہری کی حیثیت سے ضروری ہے کہ ہر خبر کی تحقیق کی جائے، افواہوں سے اجتناب کیا جائے اور اپنی صلاحیتوں کو تعلیم، تحقیق، روزگار خدمت خلق اور قومی ترقی کے لیے وقف کیا جائے۔ حضرت علی نے فرمایا لوگوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو کہ اگر تم زندہ رہو تو وہ تمہارے مشتاق رهے ، اور اگر دنیا سے چلے جاؤ تو تم پر افسوس کریں ۔یہی اصل بیت کی حقیقی تعلیم ہے کہ انسان اپنے اخلاق، دیانت اور خدمت کے ذریعے معاشرے میں اعتماد پیدا کرے۔ آج کچھ عناصر نفرت، تقسیم اور اشتعال کو فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن اسلام اور اہل بیت کی تعلیمات میں محبت، رواداری، عدل اور خیر خواہی کا راست دکهاتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی صدقہ قرار دیا۔لہذا ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ معاشرے سے نفرت کے کانٹے نکالیں نہ کہ ان میں اضافہ کریں۔اہل وطن کی خدمت، آئین کا احترام ،قانون کی پاسداری ،قومی اداروں کا تعاون اور تمام شہریوں کے ساتھ حسن سلوک ایک ذمہ دار مسلمان کی پہچان ہے۔ حضرت علی کے نظام حکمرانی میں عدل، مساوات، امانت داری اور عوامی خدمت بنیادی اصول تھے، اور یہی اصول آج بھی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہیں ۔آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائیاں تعلیم، کردار سازی، قومی خدمت، سائنسی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے صرف کریں۔ یہی قرآن، رسول اکرم ﷺ اور اہل بیت اطہار کا پیغام ہے، اور یہی ایک باوقار مستقبل کی ضمانت بھی اور متشدد اور گمراہ کن عناصر کے تقسیمی اور جذباتی پروپیگنڈا اور نعروں سے جال میں ملوث ہونے سے بچے ۔
آئئے ہم عہد کریں کہ ہر آزمائش کا مقابلہ صبر سے ،ہر نعمت کا استقبال شکر سے، ہر اختلاف کا جواب حکمت سے، ہر نفرت کا جواب محبت سے، اور ہر چیلنج کا سامنا علم ،کردار اور خدمت، وطن کے جذبے سے کریں گے۔ یہی راستہ اللہ کی رضا، رسول اکرم ﷺ کی سنت، حضرت علی اور اہل بیت اطہار کی تعلیمات اور ایک مضبوط و متحد ہندوستان کی کامیابی کا راستہ ہے۔

