خصوصی اردو ڈی ایس سی منعقد کرنے ٹرینڈ ٹیچرس کا مطالبہ

حیدر آباد کے پرجا بھون میں ریاستی وزیر پونم پربھاکرسے نمائندگی، کانگریس کے انتخابی وعدہ پر عمل آوری کا مطالبہ

حیدر آباد : 19/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)

اردو ٹرینڈ ٹیچرز کے ایک وفد نے آج حیدر آباد میں واقع پرجا بھون پہنچ کر جلد از جلد خصوصی اردو ڈی ایس سی منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق حیدرآباد، وقار آباد اور کاماریڈی اضلاع سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ اساتذہ نے جیوتی با پھولے پرجا بھون پہنچ کر آج چیف منسٹر ریاست تلنگانہ سے ملاقات کی کوشش کی تاہم ان کی غیر موجودگی میں ریاستی وزیر پونم پربھاکر سے انھوں نے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں خصوصی اردو ڈی ایس سی کے نوٹفکیشن کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

وفد نے ریاستی وزیر کوپیش کئے گئے یادداشت میں بتایا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت نے اردو مدارس اور اردو اساتذہ کے تقررات میں نا انصافی کی تھی اور سابقہ ڈی ایس سی نوٹفکیشن میں بہت کم جائیدادیں اردو میڈیم کے تحت بتائی گئی تھیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ انتخابات سے قبل کانگریس نے اپنے اقتدار پر آنے کے بعد خصوصی اردو ڈی ایس سی منعقد کرنے پر مشتمل میناریٹی ڈکلریشن جاری کیا تھا اور ریاست تلنگانہ کے تربیت یافتہ اردو اساتذہ کانگریس کے اس وعدہ پر عمل آوری کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

وفد نے ریاستی وزیر کے علم میں لایا کہ ہر مرتبہ جاری کئے جانے والے نوٹفکیشن میں اردو میڈیم کی کئی جائیدادیں ایس سی و ایس ٹی طبقہ کے امیدواران کی عدم دستیابی کے باعث مخلوعہ رہ جاتی ہیں جس پر موجودہ حکومت کو سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اقدامات عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔

وفد نے توجہ دلائی کہ جس طرح سے تلگودیشم دور حکومت میں اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی جائیدادوں پر بھرتی کے لئے خصوصی ڈی ایس سی منعقد کیا گیا تھا اور تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے تھے،

اسی طرح موجودہ کانگریس حکومت کو چاہئے کہ وہ اردو میڈیم مدارس کی ترقی اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی اردو میڈیم ڈی ایس سی کا انعقاد عمل میں لائیں۔

منسٹر پونّم پربھا کر نے اردو ٹرینڈ ٹیچرس کے مطالبات کو بغور سننے کے بعد نئی حکومت کی جانب سے ان وعدوں پر عمل آوری کا یقین دلایا۔

مذکورہ وفد کی قیادت عزیز خان نے کی جبکہ وفد میں جویریہ صباحت ، صالحہ تسکین، نوشین ، رضیہ ، فردوس فاطمہ ، معیز الدین اور دیگر ٹرینڈ اساتذہ موجود تھے۔