بی ایس ایف کی انسانی ہمدردی

بنگلہ دیش میں رہنے والی بیٹی کو مغربی بنگال میں متوفی باپ کی آخری جھلک دیکھنے کی اجازت دے دی

 

دونوں ممالک کی سرحد پر واقع زیرو پوائنٹ پر جنازہ رکھا گیا اور پھر بیٹی نے اپنے والد کا آخری دیدار کرلیا

30/ڈسمبر (ایجنسیز)
بین الاقوامی سرحدوں کے پار فوجی آپریشن کے بارے میں تو عوام نے سنا ہے تاہم ہندوستان کی بارڈر سیکیوریٹی فورس (بی ایس ایف) نے اس کے برعکس، انسانی دلوں کو پگھلانے والا کام  بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر انجام دیا ہے،  جس سے اس کی ہر جانب سے پزیرائی ہورہی ہے۔
بی ایس ایف نے غیر معمولی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی بنگال میں فوت ہونے والے ایک شخص کا آخری دیدار بنگلہ دیش میں رہنے والی اس کی بیٹی سے دونوں ممالک کی سرحد پر واقع زیرو پوائنٹ پر کروایا جس کے بعد بی ایس ایف کی زبردست تعریف ہورہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقع مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع ہری ہر پور کا ہے جہاں کے رہائشی لیاقت بسواس کا  بروز جمعرات اچانک انتقال ہوچکا تھا۔
ان کی ایک بیٹی جو کہ بنگلہ دیش میں رہائش پزیر ہے، ہندوستان میں فوت ہونے والے اپنے  والد کے آخری دیدار کے لیے لرز اٹھی۔ہندوستان آنے کے لئے بروقت ویزا کی عدم دستیابی سے وہ پریشان ہوگئی ۔
مُردہ باپ کی نعش کے آخری دیدار کی تڑپ کو محسوس کرتے ہوئے متوفی کے گاؤں والوں نے یہ معاملہ مقامی بی ایس ایف ساؤتھ بنگال فرنٹیئر کی 68ویں بٹالین کے ذمہ داران کی نوٹس میں لایا۔
لوگوں کی انسانیت اور جذبات کو دیکھتے ہوئے مادھو پور کے بارڈر آؤٹ پوسٹ کے کمانڈر نے فوری طور پر بنگلہ دیشی سیکورٹی حکام سے رابطہ کیا اور ان کے ملک میں رہائش پزیر بیٹی کو دونوں ممالک کی سرحدوں سے متصل زیرو لائن پر لانے کی سفارش کی۔
بتایا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے حکام کی آپسی رضامندی کے بعد  سرحدی افواج نے ‘زیرو لائن’ پر ایک طرف متوفی باپ کا جنازہ پہنچایا تو دوسری جانب بیٹی اور اس کے سسرالی رشتہ داروں کے پہنچنے کا انتظام کیا۔
لیاقت کی میت کو جمعہ کی صبح سرحد پر زیرو پوائنٹ لایا گیا۔ دوسری طرف سے لڑکی بھی آگئی لڑکی نے اپنے والد کو آخری بار دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی آخری تعزیت بھی کی۔ اس موقع پر لڑکی نے کہا کہ، ’’میں نے اپنے والد کو آخری بار بی ایس ایف کی مدد سے دیکھ پائی‘‘۔ میں بی ایس ایف کی شکر گزار ہوں۔‘‘
جنوبی بنگال فرنٹیئر کے ترجمان نے اس واقعہ کے بعد کہا کہ ’’ملک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف سرحدی لوگوں کی مشکلات میں بھی شامل ہے۔ مقامی لوگوں کی مذہبی اور سماجی اقدار کی حفاظت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم صرف ملک دشمنوں کے خلاف ہیں۔ جب بات انسانیت اور اقدار کی ہو تو ہم ہمیشہ تیار ہیں،”