نیا سال نہیں بلکہ ۔۔۔۔ایک سال اور گھٹ گیا!

فانی  زندگی  کا  ایک  اور  سال  گزر گیا،   
سلسلۂ روز و شب کا ایک اور برس بیت گیا
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا  سال گزر گیا
دنیا کی دوسری قومیں سال کے اختتام اور نیا سال شروع ہونے پر خوشیاں مناتی ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتی ہیں، مومن اس طرح کی خوشی نہیں مناتا ہے، خوشی تو وہ منائے جن کو ماضی کے بارے میں نیک عملی کا یقین ہو،لیکن کون ایسی غلط فہمی میں مبتلاء ہو سکتا ہے، ہمیں تو ماضی کے بارے میں بھی افسوس ہے اور آئندہ کا اندیشہ ہے۔
ہاں سال کی تکمیل، تجدیدِ عہد کا موقع ہے، ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست کرے کہ اللہ!یہ سال کیسا بھی گزرا،  کوتاہیوں کو معاف فرما کر آنے والے سال کو عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت ہر اعتبار سے بہتر بنادے۔
مومن کے لئے خوشی کا دن تو وہ ہے کہ موت قریب آ رہی ہو، منہ پر کلمہ جاری ہو، قبر و حشر کے مراحل بھی آسان ہو تو وہ خوشی کی گھڑیاں اور دن ہوگا۔
کیونکہ اس چند روزہ حیاتِ مستعار کا سب سے حسین تحفہ ہی حسن خاتمہ ہے، جس کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ دعا کتنی خوبصورت ہے، اسے اپنی معمول کی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہیے :
اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حسن خاتمہ کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔آمین

مرتب :- محمد حنیف ٹنکاروی

نوٹ: ’’اپنا وطن نیوز‘‘ کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ’’اپنا وطن نیوز‘‘ کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔