عادل آباد چیرٹیبل ٹرسٹ کے تربیت یافتہ طلبا میں اسنادات کی تقسیم۔چیر مین ٹرسٹ محمد یونس اکبانی کا خطاب
عادل آباد : یکم جنوری (اپنا وطن نیوز)
عادل آباد چیرٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے ٹیلرنگ سنٹر و کمپیوٹر سنٹر کے فارغین میں آج اسنادات کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔
چیرمین عادل آباد چیرٹیبل ٹرسٹ محمد یونس اکبانی نے تقریب تقسیم اسنادات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسا نوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے لیکن دین اسلام نے خد مت ِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے ۔
انھوں نے مزید کہا کہ انسانیت کی خد مت کے بہت سے طریقے ہیں۔ بیواؤں اور یتیموں کی مدد ،مسافروں ، محتاجوں اور فقرا اور مساکین سے ہمدردی ،بیماروں،معذوروں،قیدیوں اور مصیبت زدگان سے تعاون، یہ سب خدمت خلق کے کام ہیں۔

ان ہی خدمت کے کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے عادل آباد چیرٹیبل ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جانے والے کمپیوٹر سنٹر اور ٹیلرنگ سنٹر میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کو فنی کورسیس میں مفت تربیت فراہم کی گئی تاکہ وہ خود روزگار کے قابل بن سکیں۔
محمد یونس اکبانی نے طلبا کو مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انسان کے لئے علم بہت بڑی دولت ہے، انسان کی جانب سے جمع کی ہوئی قیمتی اشیا کا سرقہ کیا جاسکتا ہے تاہم اُس کے ذریعہ حاصل کئے گئے علم و ہنر مندی کو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
انھوں نے کہا کہ صرف رضائے الہی کی نیت سے کئے جانے والے خدمت کے کاموں سے مزہ آتا ہے اور ٹرسٹ کو مل رہی ہمت افزائی سے وہ شہریان عادل آباد کے مشکور ہیں۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی مفاد سے بالا تر ہوکر شہر کے غریب لڑکے و لڑکیوں کو ہنر مند بنانا ان کے ٹرسٹ کا مقصد ہے اورن وہ اسے اپنی آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔
قبل ازیں ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جانے والے کمپیوٹر سنٹر کے فارغین جن میں Tally کورس کے 15 طلبا، PGDCA کورس کے 30 طلبا و طالبات، ٹیلرنگ سنٹر کے تحت تربیت یافتہ 24 لڑکیوں اور ذردوزری کورس میں تربیت یافتہ 30 لڑکیوں میں اسنادات کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔
تقریب تقسیم اسنادات میں سید یعقوب جنرل سکریٹری ٹرسٹ، خیرات علی موظف اے ایم سی سکریٹری، محمد مجاہد صدر رئیل اسٹیٹ اسوسی ایشن عادل آباد، محمد بلال پرنسپل کریسنٹ کالج، اقبال صاحب مالک کریٹیو کمپیوٹرس، رفیق پاریکھ و دیگر موجود تھے۔

