ہٹ اینڈ رن قانون: عادل آباد میں لاری ڈرائیورس کا احتجاج

عادل آباد : 17/جنوری (اپنا وطن نیوز)

مرکزی حکومت کی جانب سے ہٹ اینڈ رن قانون نافذ کرنے کی تیاریوں کے اعلان کے بعد سے ہی لاری ڈرائیورس ملک گیر سطچح پر احتجاج کررہے ہیں۔

اسی کڑی کے طور پر آج ضلع مستقر عادل آباد کے ڈرائیورس، کلینرس و ورکرس یونین کے ذمہ داروں نے اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاجی ریالی منظم کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر منسوخ کردیں۔

یونین صدر عادل آباد توفیق اللہ خان، نائب صدر شیخ عرفان و جنرل سکریٹری اصغر کی زیر نگرانی آج مستقر عادل آباد کے ڈرائیورس و کلینرس نے خورشید نگر سے ایک احتجاجی منعقد کی جو کہ نہرو چوک، پنجاب چوک، جدید بس اسٹانڈ، تلنگانہ چوک، کلکٹریٹ چوک سے ہوتی ہوئی دفتر کلکٹریٹ پر پہنچی۔

یونین قائدین نے آر ڈی او عادل آباد کو اس خصوص میں یادداشت پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اس سیاہ قانون کو لاگو نہ کرے۔

واضح ہو کہ مذکورہ قانون جو کہ ’’مجرمانہ قانون بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 106(2) میں ڈرائیورس پر 10 سال کی سزا اور 7 لاکھ روپئے جرمانہ شامل ہے پر ڈرائیورس احتجاج کررہے ہیں۔

بعد ازاں یونین قائدین نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے ڈرائیورز بھاری جرمانے عائد کرنے کی نئی تجویز سے پریشان ہیں جس میں 10 سال قید کی سزا بھی شامل ہے۔

انہوں نے اس بات پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ حکومت نے ٹرک مالکان یا ٹرانسپورٹ برادری کے کسی سے مشورہ کیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا۔

مرکزی حکومت کے اس اقدام سے ایسی صورتحال پیدا ہو جائے گی جہاں ڈرائیور اپنا پیشہ جاری رکھنے سے کترائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 80 فیصد ڈرائیورس سطح غربت کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں اور 60 فیصد ڈرائیورس کرائے کے مکانات میں گزربسر کررہے ہیں ایسے میں ان پر سخت قوانین کا نفاذ ان کے خاندانوں کو برباد کرنے کا سبب بنے گا۔