اندرون 15 یوم 15 ہزار پولیس کانسٹیبلوں کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات

کے سی آر دوبارہ وزیر اعلیٰ نہیں بن پائیں گے

بی آر ایس کی کسی بھی سازش کا عوام منہ توڑ جواب دیں گے

اندرویلی جلسہ سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

عادل آباد : 02/فروری (محمد عابد علی/اپنا وطن نیوز)

اندرون 15 یوم 15 ہزار کانسٹیبل کی جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کا ریاستی وزیر اعلیٰ مسٹر ریونت ریڈی نے آج اعلان کیا۔

انھوں نے ضلع عادل آباد کے اندرویلی منڈل مستقر کے قریب منعقدہ عوامی جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت عوامی حکومت ہے اور عوام کی امنگوں پر اترنے کے لئے وہ مختلف فلاح و بہبود کے کام انجام دے رہی ہے۔

اسی کڑی کے طور پر دو روز قبل 7 ہزار اسٹاف نرسوں کی جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے مزید مخلوعہ جائیدادوں پر اعلامیہ جاری کئے جائیں گے۔

چیف منسٹر جو کہ اقتدار کے حصول کے بعد اپنی حکومت کے پہلے عوامی جلسہ کو مخاطب کررہے تھے نے ضلع عادل آباد کے عوام پر سوغات کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ضلع میں یونیورسٹی کے قیام تمڑی ہٹی آبپاشی پراجیکٹ، کپٹی پراجیکٹ کی تعمیر عمل میں لائیگی جبکہ کڑم پراجیکٹ کے مرمتی کام کئے جائیں گے۔

انھوں نے جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر اعلیٰ کے سی آر پر زبردست تنقید کی اور کہا کہ وہ دوبارہ اقتدار کے حصول کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کے قائدین اقتدار کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ کے سی آر مستقبل میں کبھی بھی ریاستی وزیر اعلیٰ تو دور ریاستی وزیر بھی نہیں بن پائیں گے۔

 

بی آر ایس کی کسی بھی سازش پر ریاست کی عوام خاموش نہیں بیٹھے گی ۔ کے سی آر نے ریاست پر 7 لاکھ کروڑ کے قرض کا بوجھ عائد کررکھا ہے۔ اس کے علاوہ آبپاشی پراجیکٹس میں 40 ہزار کروڑ کا غبن کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بی آر ایس اور بی جے پی آپسی تال میل کے ذریعہ پارلیمانی انتخابات میں عوام کے روبرو آئیں گے۔

انھوں نے استفسار کیا کہ آیا کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں پارلیمانی نشستیں حاصل کرتے ہوئے مودی کی غلامی کریں گے؟

ریونت ریڈی نے اپنی روایتی تقریر میں آگے کہا کہ بی جے پی مذہب کے نام پر ووٹ لینے عوام کے سامنے آئیگی ۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عادل آباد کی پارلیمانی نشست پر کانگریسی امیدوار کو کامیابی سے ہمکنار کریں تاکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے راہول گاندھی کو فائز کیا جاسکے۔

قبل ازیں ریونت ریڈی نے اندرویلی کی مٹی کو جہد کاروں کی مٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق میں یہاں کے عوام نے انگریزوں اور نظام حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔

اسی کو نظر میں رکھتے ہوئے انھوں نے بحیثیت صدر پردیش کانگریس اپنا پہلا جلسہ سال 2021 میں اسی مقام سے آغاز کیا تھا آج جبکہ وہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے منتخب ہوچکے ہیں ان کی کابینہ نے اسی سرزمین سے ریاست کی دوباری ترقی کے لئے عزم کیا ہے۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ سابق میں متحدہ آندھرا پردیش کے وقت آندھرائی قائدین نے اس علاقہ کے آدی واسیوں اور عوام پر مظالم ڈھائے تھے۔ ان ہی غلطیوں کی تلافی کے لئے موجودہ حکومت کمربستہ ہے ۔

انھوں نے سال 1980 کے دوران پولیس فائرنگ میں اسی مقام پر شہید ہونے والوں کے افراد خاندان میں اندراما امکنہ اراضی اور مکان کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپئے منظور کئے۔

قبل ازیں چیف منسٹر نے کیسلاپور موضع کے ناگوبا مندر میں خصوصی پوجا کی۔ انھوں نے اس مند کی 5 کروڑ روپیوں سے تعمیر کا افتتاح اور دیگر ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

جلسہ عام میں   نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرا مارکا، ضلع انچارج وزیر سیتا اکا، ریاستی وزرا کونڈا سریکھا، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، تملا ناگیشور راؤ، سریدھر بابو کے علاوہ مہیش کمار گوڑ ایم ایل سی، حکومت کے مشیر محمد علی شبیر، رکن اسمبلی خانہ پور ویڈما بوجوپٹیل، رکن اسمبلی منچریال پریم ساگر راؤ، رکن اسمبلی چنور وویک وینکٹ سوامی، رکن اسمبلی بودھن سدرشن ریڈی، وی ہنمنت راؤ کے علاوہ دیگر اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل موجود تھے۔

جلسہ کی کامیابی میں حلقہ اسمبلی عادل آباد کانگریس انچارج کندی سرینواس ریڈی اور نرمل کانگریس اقلیتی قائد ارجمند علی کے علاوہ دیگر قائدین نے کلیدی رول ادا کیا۔