وقف ایکٹ میں اصلاحات : قوم کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری قدم

 اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کی حالیہ انکشاف کے مطابق پورے ہندوستان میں 994 املاک ہے جن پر غلط طریقے سے قبضہ کئے گئے ہیں یہ ایک واضح یاد دہانی کرنا ہے کہ یہ کتنا مشکل ہے وقف اثاثے کی حفاظت کرنے اور نگرانی کرنے میں۔ یہ املاک مذہبی، تعلیمی اور خیراتی مقاصد کے لیے دیے گئے ہیں، جن کا مقصد مسلم قوم کی بھلائی کرنا ہے، مساجد اسکول اور بھلائی کرنے والے اقدام کی حمایت کر کے۔
حالانکہ وقف 1995 کے نفاذ میں نظامی غلطی ہوئی ہے جو بدعنوانی اور غصب کرنے پر مشتمل ہے یہ اس کا استعمال اور اہمیت پر صلاح کر لیا گیا ہے۔ وقف املاک مسلم قوم کے لیے بہت ہی قیمتی چیز ہے۔ مساجد و مدارس سے لے کر کے قبرستان اور یتیم خانے، یہ اثاثے کا مقصد بہت ہی عمدہ کام کے لیے ہے۔ اب بھی ان کے غصب کرنے کی عدم تحفظ موجوده وقف ایکٹ میں غلطی کا اشارہ کرتا ہے۔ وزارت کی جانب سے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران پیش کیے گئے بیان کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ ریاستیں جیسا کہ اتر پردیش مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے اراضی کے غصب کرنے میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ کچھ لوگوں نے ان زمینوں کو غیر قانونی طور پر قبضہ کیے ہیں وہ کم ہے، اور جو زمینیں غیر قانونی طریقے سے تعمیر کےلئے غصب کئے گئے ہیں  تاجروں اور تنظیموں کے ذریعے وہ بہت بڑے پیمانے پر ہے۔ وقف بورڈ پورے ہندوستان میں غصب شدہ املاک پر دوبارہ دعویٰ  کرنے اور حفاظت کرنے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔
وقف ایکٹ 1955 جس کی بنیاد رکھی گئی تھی وقف املاک کی لگاتار نگرانی کرنے کے لیے اور ان کا صحیح استعمال کو یقینی بنانے کے اس قانون میں بہت ساری خامیاں پائی گئیں جو بدعنوانی اور زمین پر قبضہ کو اضافہ کیا۔ بہت سارے وقف بورڈ کے پاس بنیادی ڈھانچہ کی کمی ہے جہاں پر ان املاک کا صحیح طریقے سے نگرانی کر سکے۔ بغیر مسلسل نگرانی کے، ان زمینوں پر غصب کرنا اکثر نظر کے سامنے نہیں آتے ہیں اور یہ  کافی دیر ہو جاتی ہے۔ وقف کے متعلق تنازعہ کو حل کرنے کے لیے طویل وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ معاملات سالوں ملتوی رہتے ہیں۔ وقف اہلکاروں کی ملی بھگت زمین ہڑپنے والوں کے ساتھ جو اپنے ذاتی حصول کے لیے کام کرتے  ہیں، یہ خبریں وقف بورڈ کے کردار اور خصوصیت کو داغدار کر دیتے ہیں۔
یہ ایکٹ،  زمین ہڑپنے والوں پر سخت جرمانے نافذ نہیں کرتے ہیں بلکہ غصب کرنے والے کو زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ان حالات کی شدت کو پہچانا اور اسے حل کرنے کے لیے ضروری اقدام اٹھائے۔ اقلیتی امور کی مرکزی وزارت بہت ساری اصلاحات پیش کی جو وقف املاک کی حفاظت کو مزید اچھا  کر سکتی ہیں، حکومت وقف املاک . کو ڈیجیٹل بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ اس کے صحیح ریکارڈ بنایا جا سکے اور جی آئی ایس کی  بنیاد پر اس نظام کا نفاذ ہو۔
یہ اقدام کا مقصد شفافیت اور صحیح طریقے سے رکھنے کو یقینی بنانے اور غیر قانونی طریقے سے قبضہ کو روکنے کے لیے  بنائے گئے ہیں۔ وقف بورڈ سے متعلق تنازعات کو جلد ازجلد حل  کرنے  کے لیے وزرات نے خصوصی ٹربیونل کو بنانے کی تجویز پیش کی ہے جو وقف املاک کے معاملات کو حل کرنے کے  لیے مختص  ہوگا۔ یہ روایتی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کو نمایاں طور پر کم کر دے گا۔ مالی معاونت وقف بورڈ کے لیے مختص کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کی قوت اضافہ ان املاک کی  نگرانی کرنے. کے لیے اور ان اراضی کے غصب  کرنے والوں کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کے لیے۔
سینٹرل وقف بورڈ (CWC) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاستی وقف بورڈز کے ساتھ مل کر کام کریں  تاکہ ان املاک کی مسلسل ریاستی وقف بورڈ کے نگرانی کی یقینی بنایا جا سکے۔ جبکہ یہ اقدام قابل قبول ہیں، تو وقف بورڈ کے اندر نظامی بدعنوانی کو حل کرنے ۔ کے لیے ضروری  اقدام لیے گئے ہوں۔
وقف اہلکاروں کے درمیان احتساب کی کمی موجوده اراضی غصب کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ سخت جرمانہ عائد کرنا اور آزاد نگرانی کرنے والے ذرائع کی بہت ضرورت ہے ان بدعنوانی کو روکنے کے لیے۔ قوم کے بڑی تعداد کی شرکت اس بدعنوانی کے اعمال کو روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔ مقامی مشترکہ لوگوں کی شرکت اراضی غصب کرنے والوں  کے خلاف خبر دینے اور نگرانی کرنے سے شفافیت وہ احتساب عمدہ ہو جائیں گے۔
ان مجوزہ اصلاحات کے باوجود مخالفین کے رہنما اور قوم کے کارکنان شک و شبہات میں گرفتار ہیں۔ وقف ایکٹ کی ترمیم کی کوشش نے بحثوں کو دوبارہ ہوا دی ہے وقف بورڈ کی خود مختاری کے ساتھ اصلاحات کو متوازن بنانے کے بارے میں۔  ان اصلاحات کا مقصد نگرانی اور احتساب کو ترقی دینا ہے نہ کہ یہ کوئی خطرہ ہے بلکہ یہ موقع ہے بھروسہ قائم کرنے  کے لیے۔ اس نظام میں یہ اقدام وقف بورڈ کو چلانے کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، جو پہلے سے موجودہ مشکلات کو حل کر سکے۔ وقف بورڈ کے املاک کی حفاظت کرتے ہوئے، وقف ایکٹ کی ترمیمی سخت اور اضافی جرمانہ اراضی غصب کرنے والے اور بدعنوانی عمل کرنے والے پر تعارف کرنا ہے۔ قوم کو تعلیم دینا ہے وقف املاک کی اہمیت کے بارے میں اور  ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ کہ وہ غصب کرنے والے کی خبر دیں اور شهری معاشرتی تنظیم کے ساتھ مل کر کے کام کریں۔
وقف ایکٹ کی اصلاحات کو دھمکی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ اس نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ہے۔ اور وقف املاک کے بنائے گئے مقصد کو پورا یقینی بنانا ہے۔
موجودہ خامیوں کو نکال کر اور اہلکاروں کو ذمہ دار بناکر حکومت وقف کی نگرانی میں بھروسہ کو دوبارہ قائم کر سکتے ہیں اور آنے والی نسل کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ان اصلاحات کا راستہ مشکل ہو لیکن ان حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے قدم اٹھانا ضروری ہے، اور اقلیت قوم کے ذرائع کی حفاظت ضروری ہے۔