میاں بیوی راضی مگر قاضی نے نکاح رکوادیا

شادی کی تقریب میں ڈی جے بجانے کا شاخسانہ

قاضی نے نکاح پڑھانے سے انکار کردیا

بہرائچ: 5 ؍ جولائی (سوشل میڈیا )

اتر پردیش کے بہرائچ ضلع میں ایک قاضی نے اس وقت نکاح کرنے سے انکار کر دیا جب اس نے تقریب میں مہمانوں کو ڈی جے کی دھن پر رقص کرتے دیکھا۔
اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہہ کر نکاح کرنے سے انکار کر دیا کہ ایسی حرکت اسلامی روایات اور رسوم کے خلاف ہے۔
اس کے بعد دولہا کے والد مولانا کے پاس گئے اور مستقبل میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کا وعدہ کرتے ہوئے معافی مانگی۔
 دولہا کے گھر والوں کی طرف سے کافی سمجھانے اور افسوس کے اظہار کے بعد قاضی نے نکاح کی تقریب کو آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی حرکت دہرائی گئی تو 5,051 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
2 جولائی کو پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
اس واقعے کے بارے میں مولانا سکندر نے ایک اسلامی حدیث کا حوالہ دیا اور تمام نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ "اللہ کو ناراض کرنے والی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے سے گریز کریں”۔
مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "شادی یا کسی اور تقریب میں ڈی جے میوزک نہیں چلنا چاہیے، کیونکہ شریعت کے اصولوں کے خلاف ہر چیز سے گریز کیا جانا چاہیے”۔
قاضی کے اس اقدام پر علاقہ کے عوام اور علما نے ان کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ شادیوں میں ڈانس و ڈی جے بجائے جانے پر نکاح کی تقاریب کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔