سول سروسس امتحان میں ضلع عادل آباد کے 4 نوجوان کامیاب

عادل آباد : 17/اپریل (اپنا وطن نیوز)

یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2023 کا نتیجہ کل جاری کر دیا گیا ۔ جاری کئے گئے UPSC CSE 2023 کے نتائج میں ملک بھر سے جملہ  1016 امیدواروں کو منتخب کیا گیا ہے۔

منتخب ہونے والے ان سبھی کو آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، گروپ اے اور گروپ بی خدمات میں سرکاری ملازمتوں کی پیشکش کی جائے گی۔

کل جاری کئے گئے ان نتائج میں تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے چار نوجوانوں نے بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔

منتخب شدہ نوجوانوں کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

ریکلوارشبھم (790 رینک)

ضلع عادل آباد کے اندرویلی منڈل کے متنور موضع کے متوطن ریکلوار شبھم کو سول سروسیز امتحان میں 790 واں رینک حاصل ہوا۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے چوتھی مرتبہ اس امتحان میں شرکت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

مقامی سطح پر ایک تلگو اخبار کے صحافی ستیہ نارائنا کے فرزند شبھم کی ابتدائی تعلیم مقامی سرکاری اسکول میں ہوئی۔ بعد ازاں دسویں جماعت جواہر نوودیا اسکول سے ٹاپ کیا۔ انٹر میڈیٹ (ایم پی سی ) کی تعلیم حیدر آباد کے ایک خانگی جونیر کالج سے مکمل کرنے کے بعد انھوں نے آئی آئی ٹی گوہاٹی سے سول انجنیرنگ میں مکمل کی۔

ابتدا سے ہی آئی اے ایس بننے کے خواب نے انھیں سول سروسیز امتحان کی جانب راغب کیا اور تین مرتبہ ناکامی کے باوجود بھی اس نوجوان نے ہار نہیں مانی اور چوتھی مرتبہ انھیں 790 رینک حاصل ہوا۔

نوجوان کی کامیابی پر موضع کے نوجوان اور رشتہ دار کل رات سے ہی جشن منا رہے ہیں۔

آرے وشال (718 رینک)

کسی بھی قسم کی کوچنگ کے بنا ہی خود سے سول سروسز امتحان کی منصوبہ بند تیاری کرتے ہوئے آرے وشال نے اس امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی۔

عادل آباد شہر سے متصل موضع چاندہ کے متوطن وشال نے اپنی پہلی ہی کوشش میں 718 رینک حاصل کرتے ہوئے اپنے والدین اور گاؤں کا نام روشن کیا۔

اس نوجوان کے والد آرے وینکٹیشور ضلع منچریال کے جئے پور اے سی پی کی حیثیت سے خدمات پر معمور ہیں جبکہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔

والدین کے مطابق بچپن ہی سے وشال کو پڑھائی میں دلچسپی تھی۔ ابتدائی تعلیم این ٹی پی سی، دسویں توپران، انٹر حیدر آباد اور اتراکھنڈ کے رورکی آئی آئی ٹی میں انھوں نے انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

اس نوجوان نے کوئی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی بلکہ والدین کی رہنمائی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی پہلی ہی کوشش میں 718 واں رینک حاصل کیا۔ ان کا خواب مزید بہتر کارکردگی کے ذریعہ ضلع کلکٹر بننا ہے ۔

اے۔سندیپ (830 رینک)

کم عمری میں ہی لاکھوں روپیوں کی ملازمت کے حصول کے باوجود بھی غریب عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار سندیپ نے بالآخر سول سروسیز امتحان میں 830 واں رینک حاصل کیا۔

 

عادل آباد رورل منڈل انکولی کے متوطن سندیپ کے والد پولیس کانسٹیبل ہیں ۔ نوجوان کی ابتدائی تعلیم ضلع مستقر کے ایک خانگی اسکول میں ہوئی۔ بعد ازاں اس نوجوان نے چھٹویں تا دسویں کی تعلیم کاغذ نگر کے نوودیا اسکول سے مکمل کی۔

انٹر میڈیٹ حیدر آباد کے ایک خانگی کالج سے مکمل کرنے کے بعد سندیپ نے انجنرینگ ریاست بہار کے دھنباد آئی آئی ٹی سے کی۔ ایک سال تک بنگلور کی ایک کمپنی میں ملازمت کے بعد انھوں نے اپنے والد کے مشورہ پر ملازمت کو خیر آباد کرتے ہوئے سول سروسیز کی تیاری کی۔

آن لائن طرز پر کوچنگ کے حصول اور سخت محنت کے ذریعہ انھوں نے اپنی پہلی ہی کوشش میں 830 رینک حاصل کیا۔ اس رینک پر انھیں آئی اے ایس یا آئی پی ایس کی ملازمت کا ملنا مشکل ہے لہذا نوجوان نے ایک اور مرتبہ امتحان تحریر کرنے اور مزید بہتر رینک کے حصول کے ذریعہ آئی اے ایس بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

محکمہ پولیس میں برسر خدمت کانسٹیبل کے فرزند کو سول سروسیز امتحان میں رینک کے حصول پر ضلع ایس پی عادل آباد مسٹر غوث عالم نے کانسٹیبل اور ان کے فرزند کو بذریعہ فون رابطہ قائم کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

چوہان راج کمار (703 رینک)

ضلع عادل آباد کے گڑی ہتنور منڈل کے متوطن چوہان راج کمار نے چوتھی کوشش میں 703واں رینک حاصل کرتے ہوئے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

پانچویں جماعت تک ایچوڑہ میں، دسویں جماعت کاغذ نگر کے نوودیاس اسکول میں ، انٹر میڈیٹ حیدر آباد اور پھر ورنگل نیٹ سے انجنیرنگ کی تعلیم مکمل کرنے والے چوہان نے اپنے والد اور رشتہ داروں کی رہنمائی سے سول سروسیز امتحان کی تیاری مکمل کی۔

چار سال تک سخت محنت کے بعد بالآخر انھیں ان کی محنت کا پھل ملا اور انھوں نے 703 واں رینک حاصل کیا۔ اس نواجوان کے والد آشرم اسکول کے ٹیچر ہیں۔