اے سی بی نے ہائی وے معاوضہ گھوٹالہ میں آر ڈی او سمیت 3 دیگر کو گرفتار کرلیا

کمرم بھیم آصف آباد ضلع میں پانچ سال قبل ہوا تھا گھوٹالہ

عادل آباد : 30/جون(اپنا وطن نیوز)

اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے عہدیداران نے ہفتہ کے روز بڑی کاروائی کرتے ہوئے کمرم بھیم آصف آباد کے سابق آر ڈی او سڈام دتو (موجودہ ورنگل آر ڈی او)، آصف آباد کے نائب تحصیلدار میسرام ناگو راؤ کے علاوہ رئیل اسٹیٹ تاجر سبا سمبھوداس، لکشمی نارائن گوڑ کو 4.37 کروڑ روپے بدعنوانی کے معاملہ میں گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معاملہ سال 2019 کا ہے جب آصف آباد مستقر سے گزرنے والی منچریال تا چندراپور چار لین قومی شاہراہ کے توسیعی و تعمیراتی کاموں کا آغاز ہوا تھا۔

اس شاہراہ کی توسیع کے لئے درکار اراضی کو خریدنے کے بعد حکومت کی جانب سے ادا شدنی معاوضہ میں بے ضابطگیوں کی شکایت اے سی بی کو ملی تھی جس کے بعد یکم مئی 2024 کو اس خصوص میں اے سی بی نے شکایت درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

بعد تحقیقات اے سی بی کے عہدیداران نے پایا کہ  کمرم بھیم آصف آبادضلع کے موضع جنکاپور کے مضافاتی علاقوں کے سروے نمبر 9 اور 10 میں  15 ایکڑ اراضی پر پلاٹس بناتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تاجرین سبا سمبھوداس، لکشمی نارائن گوڑ نے سال 1992 میں پلاٹس فروخت کئے تھے ۔اس وقت ان کی  رجسٹری بھی کی گئی تھی۔

بعد ازاں فروخت شدہ 6 ایکڑ 10 گنٹے زمین قومی شاہراہ کے توسیع شدہ کاموں کے لئے درکار ہونے اور اس کی خریدی کے لئے 4.32 کروڑ روپئے ادا کرنے کی بات روینیو عہدیداران نے بتائی۔بعد ازاں اتنا ہی معاوضہ منظور و جاری کردیا گیا۔

بعد ازاں پتہ چلا کہ وینچر میں موجود سڑکوں کے لئے مختص کردہ جگہ کے معاوضہ کی رقم جو کہ ضابطہ کے لحاظ سے گرام پنچایت کو ادا کرنا تھا، سبا سمبھوداس اور لکشمی نارائن گوڑ کو ادا کردیا گیا۔ اس کے علاوہ پلاٹس کی اراضی حاصل کرنے کے عوض پلاٹ مالکان کو بھی معاوضہ کی رقم منتقل کی گئی۔

ریونیو حکام جنہوں نے 2019 میں کام کیا انہوں نے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو غیر منقولہ معاوضے کی رقم حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس کے نتیجے میں لکشمی نارائن گوڑ کے بینک اکاؤنٹ سے تروپتی نامی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں 1,15,19,000 روپے جمع کرائے گئے جو کہ اس وقت سبا شمبھو داس کے پاس بحیثیت ڈرائیور خدمات انجام دے رہا تھا۔
عہدیداران نے پایا کہ تروپتی نامی شخص نے اُس وقت کے آر ڈی او سڈام دتو کی والدہ سڈام ملکو بائی کے بینک اکاؤنٹ میں  65 لاکھ روپے اور نائب تحصیلدار میسرام ناگوراؤ کے بھائی میسرام چتروشا کے بینک اکاؤنٹ میں  30 لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔
اس کے علاوہ افسران نے پایا کہ سروے کا کام کرنے والے سروئیر بھرت کو 10 لاکھ روپے نقد، اور 2 لاکھ روپے کی موٹر سیکل بطور تحفہ ادا کئے گئے۔
ملزمان کے بینک کھاتوں کی تفصیلات کے حصول، ڈرائیور کے  بیان کو ریکارڈ کرتے ہوئے اے سی بی عہدیداران نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا اور انھیں کریمنگر میں قائم خصوصی عدالت میں پیش کردیا گیا۔