زائد پولیس فورس روانہ
خاطیوں کو سخت سزا دی جائیگی۔عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں۔مشیر حکومت تلنگانہ محمد علی شبیر کی اپیل
عادل آباد : 4/ستمبر (اپنا وطن نیوز)
جینور فساد پر فی الفور قابو پانے کے لئے ریاستی حکومت سخت اقدامات کررہی ہے اور اس خصوص میں ریاستی وزیر اعلیٰ مسٹر ریونت ریڈی نے اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ ساتھ زائد پولیس فورس کو جینور روانہ کردیا ہے۔
ریاستی حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات مسٹر محمد علی شبیر نے آج اپنے دورہ ضلع مستقر نظام آباد کے موقع پر صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی کمرم بھیم آصف آباد ضلع کے شہر جینور میں آج پیش آئے واقعات پر فکر مند ہیں اور انھوں نے اس مسٗلہ پر ڈی جی پی تلنگانہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے فی الفور اعلیٰ پولیس حکام کو جینور روانہ کرنے اور ریاست کے دیگر اضلاع سے زائد پولیس فورس کو روانہ کرتے ہوئے حالات کو پرامن بنانے کی ہدایات دی ہیں۔

محمد علی شبیر نے مزید بتایا کہ وہ خود بھی حالات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ پڑوسی اضلاع کے پولیس حکام کے علاوہ انھوں نے تشدد کا شکار ہوئے مقامی مسلمانوں سے بذریعہ فون رابطہ قائم کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا ہے۔
تشدد دیگر مواضعات تک نہ پھیلے اس کے لئے انھوں نے پولیس حکام کو سخت اقدامات کرنے اور علاقہ میں امن و امان قائم رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
انھوں نے جینور فساد کے ضمن میں بتایا کہ یہ معاملہ دراصل ایک قبائیلی طبقہ کی خاتون کے ساتھ مسلم آٹو ڈرائیور کی جانب سےعصمت ریزی و اقدام قتل کی بے بنیاد خبروں کے پھیلنے سے طول پکڑگیا اور قبائیلی طبقہ کے نوجوانوں نے مقامی مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا۔
ریاست میں قبائیلی طبقہ کے عوام اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ سے ہی بھائی چارگی کا رشتہ بنا رہتا ہے تاہم جینور کے اس علاقہ میں کچھ ماہ سے ان دو طبقات کے درمیان تناؤ دیکھا جارہا تھا اور اس خصوص میں ریاستی وزیر سیتا اکا کے توسط سے دونوں طبقات کی عوام میں دوستی قائم کردی گئی تھی۔
انھوں نے تشدد کا نشانہ بننے اور نقصان اٹھانے والے مظلومین کو ریاستی حکومت کی جانب سے ہر طرح کی امداد پہنچانے کا تیقن دیا۔ محمد علی شبیر نے مقامی مسلمانوں اور علاقہ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آپسی نفرتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے بھائی چارگی کی فضا کو برقرار رکھیں ۔

