مسلم پرسنل لا جان سے پیارا، ہرتکلیف سہہ لیں گے لیکن شرعی قوانین میں تبدیلی برداشت نہیں کریں گے

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا عادل آباد میں خواتین  کے لئے جلسہ عام

ناصرہ خانم صاحبہ، ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ صاحبہ اور مفیضہ حفیظ صاحبہ کی مخاطبت

 

عادل آباد : 9 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز )

 

عزائم جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو

طلاطم خیز موجوں سے، وہ گھبرایا  نہیں  کرتے

مسلم پرسنل لا بورڈ شعبہ خواتین کی جانب سے آج ضلع مستقر عادل آباد  پر ’’اسلامی شریعت و یکساں سول کوڈ‘‘ کے زیر عنوان خواتین کا جلسہ عام منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور احساس دلایا کہ وہ کسی بھی صورت انھیں حاصل مسلم پرسنل لا میں مداخلت برداشت نہیں کریں گی۔

AIMPLB Meeting in Adilabad


تفصیلات کے مطابق مستقر عادل آباد کے سنٹرل گارڈن فنکشن ہال میں دوپہر 2 بجے آغاز شدہ پروگرام کی صدارت محترمہ ناصرہ خانم صاحبہ، رکن نمائندگان جماعت اسلامی ہند نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں جلسہ عام میں موجود خواتین سے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہمارا پرسنل لا ہمیں ہماری جان سے زیادہ پیارا ہے، دنیا کی ہر تکلیف سہنے کے لئے مسلمان تیار ہیں لیکن ہمارے دین یا شریعت پر آنچ آئیگی تو ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔اللہ کی باندھی ہوئی جو حدیں ہیں دنیا کی کوئی طاقت ان حدوں کو توڑ نہیں سکتی۔

انھوں نے خواتین سے پرزور انداز میں کہا کہ مسلکی اختلاف ہمارے اندر پیدا نہ ہو بلکہ ہم کلمہ کی بنیاد پر متحد ہوجائیں۔

اب تک ہم نے قرآنی تعلیمات کو پیٹ پیچھے رکھ دیا تھا، ہمارا دین ہم سے کیا چاہتا ہے اسکی فکر مسلمانوں کو نہیں تھی لیکن آج ہمیں یہ طئے کرنا ہے کہ ہمیں ہمارے دین کے تحفظ کے لئے ، مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لئے اپنی اولاد کو باشعور بنانا ہے، انھیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہے۔

ناصرہ خانم صاحبہ نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنی اولاد کو اسلام ، مرنے کا یقین، روز محشر میں حساب کتاب و آخرت  اور ساتھ ہی ساتھ انھیں شریعت کا پابند بنائیں۔آج کے بچے اسمارٹ فونس پر باتیں کرنے، چاٹ کرنے، بے حیائی کی چیزوں کو دیکھنے میں وقت گزاری کررہے ہیں جس کے لئے والدین خود اس کے ذمہ دار ہیں۔

انھیں سیل فون کی خرابیوں اور برائیوں سے محفوظ رکھیں ۔خصوصی طور پر ماؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں میں حوصلہ پیدا کریں کہ حالات کیسے بھی آئیں وہ باطل کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔

انھوں نے مثال دی کہ جس طرح سابقہ دنوں میں کرناٹک میں حجاب کے مسٗلہ پر مسکان نامی ایک لڑکی نے سینکڑوں فرقہ پرستوں کے درمیان جس جرات و ہمت کے ساتھ ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگایا تھا ، اسی جرآت و ہمت ہماری ہر لڑکی میں ہونی چاہئے۔

آخر میں انھوں نے خواتین میں امید بندھائی کہ نہ مسلم پرسنل لا خطرہ میں ہے اور نہ اسلام خطرہ میں ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کا نگران ہے، ہمیں ہماری صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، انشااللہ ہم اپنی شریعت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔

ناصرہ خانم صاحبہ نے اپنی صدارتی تقریر کا اختتام اس شعر پر کیا کہ۔۔۔۔

منجھدار میں کشتی چلانا سیکھو، ظلمت میں دئیے حق کے جلانا سیکھو

کہنے کو تو سب کہتے ہیں اللہ اللہ، اللہ کے لئے سر بھی کٹانا سیکھو

Attended Womens in AIMPLB Adilabad Meeting


قبل ازیں ایڈوکیٹ محترمہ جلیسہ سلطانہ ، کنوینر شعبہ خواتین، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کلیدی خطاب میں ، ہندوستان کے آئین میں مسلم پرسنل لا کو حاصل تحفظات سے متعلق تفصیلات بتائیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے دستور میں موجود آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کو یہ ضمانت حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کو اختیار کرسکتے ہیں، مذہب کی تبلیغ بھی کرسکتے ہیں۔مسلم پرسنل لا و شرعی قوانین کو بھی اسی آرٹیکل کے تحت تحفظات حاصل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انگریزوں کے دور حکومت میں بھی مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم مسلم علما اکرام کا قوت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے انگریز ناکام رہے۔

انھوں نے کہا کہ مغلیہ دور حکومت میں ہندؤں کو یہ حقوق حاصل تھے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارے جبکہ مسلم اپنے شرعی قوانین پر عمل پیرا ہوتے۔

انھوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی لا کمیشن کی جانب سے جاری کردہ عوامی رائے کے حصول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اور یکساں سول کوڈ کی پر زور مخالفت کی جائے۔

قبل ازیں مہمان خصوصی مفیضہ حفیظ صاحبہ، ممبر آف مسلم وومن انٹلکچول فورم نے ’’اتباع شریعت میں ہی فلاح  و کامرانی‘‘ کے عنوان سے خواتین کو مخاطب کیا۔

جلسہ کا آغاز اقبال فردوس صاحبہ رکن جماعت اسلامی ہند عادل آباد کی قرآت کلام پاک سے ہوا۔عرشیہ انجم طالبعلم مدرسہ سمیہ للبنات  نے دوران جلسہ نعت شریف سنائی  جبکہ جلسہ کا اختتام شگفتہ انجم صاحبہ، ناظم خواتین جماعت اسلامی عادل آباد کے اظہار تشکر پر ہوا۔

نظامت کے فرائض ثانیہ شرمین ، ممبر جی آئی او نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔

جلسہ عام میں مستقر عادل آباد، ایچوڑہ، اندرویلی، دیواپور کے علاوہ دیگر مواضعات کی کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔