گروپ 2 امتحانی پرچہ میں جماعت اسلامی سے متعلق دلچسپ سوال

حیدر آباد : 16/ڈسمبر (محمد عابد علی/اپنا وطن نیوز)
تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے آج (بروز پیر ) منعقد کئے گروپ 2 امتحان کے پرچہ نمبر 4 (تلنگانہ موؤمنٹ) میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر جماعت اسلامی کی حمایت اور ’’مسلم گرجنا سبھا‘‘ کے انعقاد کے ضمن میں سوال پوچھا گیا۔
امتحانی پرچہ میں سوال کچھ اس طرح پوچھا گیا کہ ۔۔۔۔
مندرجہ ذیل میں سے کس نے علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے نظام کالج کے میدان میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’’مسلم گرجنا سبھا‘‘ کی صدارت کی؟
(1) غلام رسول خان     (2)  ملک محاسط خان    (3)  زاہد علی خان    (4)  ایس۔اے۔شکور
گروپ 2 امتحانی سوالنامہ میں جماعت اسلامی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے بعد عوام بالخصوص طلبا اور دانشور طبقہ میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک کے موقع پر مسلمانوں کے سرگرم رول کی یادیں تازہ ہوگئی۔ 
دراصل جماعت اسلامی ہند حلقہ آندھرا و اڑیسہ کی جانب سے 7 فروری 2010 کو نظام کالج گراؤنڈ حیدرآباد میں تلنگانہ بھر سے مسلمانوں کا ایک عظیم الشان ’’مسلم گرجنا سبھا‘‘  پروگرام کا انعقادعمل میں لایا گیا تھا جس میں 50 ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کرتے ہوئے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا تھا۔
7/فروری 2010 کو جماعت اسلامی کے زیر اہتمام نظام کالج گراؤنڈ پر منعقدہ مسلم گرجنا سبھا پروگرام میں شریک ہزاروں مسلمان۔

مذکورہ جلسہ عام کی صدارت اس وقت کے امیر حلقہ جماعت اسلامی حلقہ آندھرا پردیش و اڑیسہ جناب ملک معتصم خان صاحب نے کی تھی جس میں سابق وزیر اعلیٰ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ، ٹی ہریش راؤ، وینکٹ سوامی، کودنڈا رام، غدر کے علاوہ کئی سرکردہ شخصیات نے حصہ لیا تھا۔
اس تاریخی جلسہ عام میں تلنگانہ بھر سے مسلمانوں کی بڑی تعداد نظام کالج گراؤنڈ پر جمع ہوئی اورتلنگانہ کو علیحدہ ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
اس تاریخی جلسہ سے جماعت اسلامی کے قائدین کے علاوہ دانشور، سیاست دان اور تلنگانہ تحریک سے وابستہ قائدین نےخطاب کیا تھا۔
اس اجتماع میں ’تلنگانہ ڈیکلریشن‘ کو بھی منظوری دی گئی جو نئی ریاست کے ساتھ لوگوں کی امنگوں اور امیدوں کی ترجمانی کرنے کے ضمن میں تھی۔
یہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی جانب سے اضلاع میں بھی علحادہ ریاست تلنگانہ کی تحریک کی تائید میں احتجاجی ریالیاں اور پروگرامس منعقد کئے گئے تھے۔ بعد ازاں یہ جلسہ اور احتجاجی پروگرامس علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔