تدریسی شعبہ میں مصنوعی ذہانت کا موثراستعمال کیسے کریں؟

جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کی جانب سےعادل آباد میں منعقدہ اساتذہ کے تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

عادل آباد : 6/جنوری (پریس ریلیز)
جماعتِ اسلامی ہند تلنگانہ کے شعبۂ تعلیم کے زیرِ اہتمام 5/ جنوری 2025 کو عادل آباد میں ایک  تربیتی ورکشاپ کا کامیابی کے ساتھ انقعاد عمل میں لایا گیا ۔
یہ ورکشاپ Connecting Minds: Communication Skills and AI for Transformative Teaching  کے عنوان پر منعقد کیا گیا جس میں اساتذہ کی تدریسی مہارتوں کو مؤثر بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر رہنمائی فراہم کی گئی۔
اس ورک شاپ سے  ڈاکٹر ایس ایم فصیح اللّه اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد نے کمیونیکشن اسکلز  کے عنوان پر اپنا لکچر پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دوران تدریس بطور معلم اس مہارت کو اپنے اندر پیدا کرنے پر زور دے تا کہ بحیثیت معلم اپنے پیشہ سے انصاف کر سکیں ۔
جناب پروفیسر محمدعبدالسمیع صدیقی ڈائریکٹر سی پی ڈی یو ایم ٹی مولانا آزاد اردو یونورسٹی حیدرآباد نے تدریس کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی اور چاٹ جی پی ٹی کے موثر استعمال پر روشنی ڈالی اور عملی طریقہ سے اسکے استعمالات بتائے۔ اسکے علاوہ دیگر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے  تدریس کو موثر بنانے کے طریقوں پر زور دیتے ہوئے اسکی عملی تربیت پیش کی ۔انھوں نے بتایا کہ ایک جدید ٹیکنالوجی نے معلم کے کام کو آسان بنا دیا ہے ۔
ورکشاپ کے دوران جناب  تنویر احمد (ڈائریکٹر، شعبۂ تعلیم، جماعتِ اسلامی ہند، تلنگانہ) نے کلیدی خطاب کیا اور اساتذہ کو تعلیم کے ذریعے سماجی تبدیلی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کو نصیحت کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے طلبہ کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنیں۔
ورکشاپ میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین اساتذہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس تربیتی ورکشاپ کو اپنے تدریسی کیریئر کے لیے نہایت مفید قرار دیا اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
جماعتِ اسلامی ہند، عادل آباد کے ذمہ داران  نے تمام شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اساتذہ نے امید ظاہر کی کہ ایسے پروگرامز آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ تدریسی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ عبد الجلیل نے پروگرام کی کار وائی چلائی۔