جموں کے خانہ بدوش بکروال قبیلے سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ نازیہ بی بی نے اپنی محنت، حوصلے اور عزم کے بل بوتے پر کھو کھو کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے 2025 کے کھو کھو ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ہندوستان کو گولڈ میڈل دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نازیہ بی بی کا تعلق جموں ضلع کے ایک چھوٹے سے دیہی علاقے نگروٹا سے ہے، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی، غربت اور سماجی پابندیاں عام ہیں۔ ان کا خاندان مویشی پالنے پر انحصار کرتا ہے، اور محدود وسائل کے باوجود نازیہ نے اپنے خوابوں کو زندہ رکھا۔
مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہاری
ایک ایسے معاشرے میں جہاں لڑکیوں کے کھیلوں میں حصہ لینے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، نازیہ بی بی کا میدان میں اترنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ انہیں نہ صرف مالی مشکلات بلکہ سماجی تنقید اور مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
مگر نازیہ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اسکول کے زمانے میں کھو کھو کھیلنا شروع کیا اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے جلد ہی مقامی اور ریاستی سطح پر پہچان بنائی۔
قومی ٹیم تک کا سفر
ان کی مسلسل محنت اور بہترین کارکردگی نے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی، جس کے بعد انہیں قومی تربیتی کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا۔ سخت مقابلے کے بعد نازیہ بی بی کو 2025 کے کھو کھو ورلڈ کپ کے لیے ہندوستانی خواتین ٹیم میں شامل کیا گیا، جہاں وہ جموں و کشمیر کی واحد خاتون کھلاڑی تھیں۔
فائنل مقابلے میں بھارت نے نیپال کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا، اور نازیہ بی بی نے بطور اٹیکر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
کامیابی نے بدلی سوچ
نازیہ بی بی کی جیت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کی سوچ کو بدل دیا ہے۔ جو لوگ پہلے ان پر تنقید کرتے تھے، آج وہی ان کی کامیابی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نازیہ کی کامیابی کے بعد اب زیادہ خاندان اپنی بیٹیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے رہے ہیں۔
نئی نسل کے لیے امید کی کرن
نازیہ بی بی کی کہانی اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف ان کے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلا بلکہ بے شمار لڑکیوں کے لیے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں۔

